بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شرکت ختم کرنے کا طریقہ

سوال

 چار شرکاء نے 2008ء میں مل کر زونگ موبائل کمپنی کی فرنچائز لی، اس وقت شرکاء نے مل کر جو سرمایا فراہم کیا وہ 48لاکھ روپے تھا ۔2سال بعد جب فرنچائز کے اثاثہ جات تقریباً 70لاکھ کے قریب تھے ایک شریک نے شرکت سے علیحدگی اختیار کی تواس وقت اس کو اس کا حصہ اثاثہ جات کے حساب سے نہیں بلکہ فرنچائز کی مارکیٹ میں جو قیمت لگ رہی تھی ایک کروڑ اور 26 لاکھ اس کے حساب سےاس کا حصہ اسے ادا کر کے باقی تین شرکا نے شرکت کو باقی رکھا۔ اب اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کمپنی کے اثاثہ جات تقریباً 70 سے 77لاکھ تک ہیں جبکہ ان کی مارکیٹ  قیمت ایک کروڑ چارلاکھ رو پے لگ چکی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ ہے اگر ایک یا دو افراد نکلنا چاہیں تو ان کو مارکیٹ میں لگنے والی قیمت کے اعتبار سے حصہ دینا ہوگا یا جو اثاثہ جات موجود ہیں ان کی قیمت کے حساب سے حصہ دینا ہوگا۔
ملحوظہ: اثاثے کم ہیں جس کی بازار میں قیمت زیادہ ہو نے کی ایک وجہ یہ ہے کہ کاروبار چل چکا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جو سمیں فروخت ہو چکی ہیں 3 سال تک ان کا کمیشن فرنچائز کو زونگ کمپنی کی طرف سے چلتارہے گا۔

جواب

شرکت میں ہر شریک کو جب چاہے شرکت ختم کرنے کا اختیار ہوتا ہے البتہ دوسرے شر کاء کو اطلاع ( نوٹس) دینا ضروری ہے۔ شرکت فسخ کرنے کے بعد اشیاء مشترکہ کی بازاری قیمت لگاکر اصل مال حصہ کے بقدر اور منافع طے شدہ شرط کے موافق تقسیم کیا جائے۔
:رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (4/327)ايچ۔ايم۔سعيد
وفي البحر عن البزازية: اشتركا واشتريا أمتعة ثم قال أحدهما لا أعمل معك بالشركة وغاب فباع الحاضر الأمتعة فالحاصل للبائع وعليه قيمة المتاع؛ لأن قوله لا أعمل معك فسخ للشركة معه وأحدهما يملك فسخها وإن كان المال عروضا، بخلاف المضاربة هو المختار۔
:البحر الرائق ،ابن نجیم الحنفی(م:970)(5/ 309،310)رشیدیۃ
ذكر في الخلاصة أن أحد الشريكين لا يملك فسخها بلا رضا الآخر، وفي فتح القدير أن هذا غلط، وقد صحح هو انفراد الشريك بالفسخ والمال عروض۔۔۔۔ وقد ظهر لي أن لا غلط في كلامهم لإمكان التوفيق فقولهم يملك فسخها بلا رضا الآخر حيث أعلمه معناه رفع عقد الشركة بالكلية وقولهم في تعليل هذه المسألة أن أحدهما لا يملك فسخها بلا رضا الآخر معناه رفعها بالنسبة إلى المشتري فقط۔
:وفی منحة الخالق علی البحر الرائق،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(5/311)رشیدیۃ
وبالجملة فهو أولى من الحمل على الغلط وكذا من حمله على ما ذكره الطحاوي؛ لأنه يناقضه تقديم تصحيح خلافه۔
:المعيار الشرعي رقم(12) الشركة/انتهاء الشركة(ص:12)
تنتهي الشركة بانتهاء مدتها، أو قبل ذلك باتفاق الشركاء أو بالتنصيص الحقيقي للموجودات في حال المشاركة، بصفقة معينةكما تنتهي الشركة بالتنصيص الحكمي۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس