بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شرکتِ عنان کی شرائط (مفصل بیان)

سوال

دویادوسےزائداشخاص مل کرایک شرکت قائم کرناچاہتےہیں جس میں شامل افرادکاسرمایہ کم زیادہ ہوگا،کچھ افرادکاروبارمیں عملی طورپرشریک ہوں گےاورکچھ لوگ عملاًشریک نہیں ہوں گےاس کےلئے شریعت کےبنیادی اورضروری مسائل کی طرف آپ ہمار ی راہنمائی کردیں تاکہ ہم اس کاروبارکوشریعت کے مطابق ابتداءسےلیکرچلیں مزیدجس جگہ ضرورت محسوس ہوگی، پھردریافت کرلیں گے۔

جواب

سوال میں جس شرکت کوقائم کرنےکاذکرہے،اُسےشریعت کی اصطلاح میں”شرکتِ عنان” کہتےہیں،شرکتِ عنان کی تعریف یہ ہے”دویازیا دہ افراداس طرح شریک ہوں کہ ہرایک کاسرمایہ،عمل،حقوق ونفع مساوی نہ ہوں،اس میں ہرشریک دوسرےکاصرف وکیل ہوتاہے،کفیل نہیں ہوتا”(المبسوط للسرخسي

( 11/163)رشیدیۃ)

مذکورہ شرکت میں فقہاءکرام نے سرمایہ ،شرکاء ،نفع وغیرہ سے متعلق جو شرائط ذکر کی ہیں ، اُن کی رعایت کرنا ضروری ہے ، ذیل میں وہ شرائط ذکر کی  جاتی ہیں

 نمبر ۱۔راس المال / سرمایہ کی شرائط

نمبر۱۔خریداری کے وقت راس المال میں سے کم از کم ایک فریق کا  ما ل موجود  ہونا ضروری ہے(بدائع الصنائع) ۔

نمبر ۲۔ جو مال غیر موجود ہو یا لوگوں کے پاس قرض کی شکل  میں ہو اُسے وصولی سے اور حاضر کرنے سے

پہلے شرکت کا سرمایہ نہیں بنایاجاسکتا ۔( الدر المختار )

نمبر ۳۔سرمایہ نقد شکل میں ہوناچاہئے، اگرسرمایہ/راس المال نقد نہ ہو، بلکہ سامان ہو توشرکاء اپنے اپنے

سامان کا نصف حصہ ایک دوسرے کو بیچ دیں،اس طرح ان کے سامانوں میں شرکت ِملک قائم ہوجائے گی اور وہ اس کے ذریعے تجارت کرسکیں گے۔( رد المحتار )

نمبر ۴۔خریداری کے وقت مال شرکت کی مقدار واضح ہوناچاہئے ۔مثلا ایک کا حصہ ٪40 اوردوسرے کا

٪60 حصہ ہے(المبسوط للسرخسي11/163رشیدیۃ)

نمبر ۵۔عقد شرکت میں سرمایہ مخلوط کرنا ضروری نہیں ہے؛لہٰذااگرسرمایہ میں دونوں طرف سے

کرنسی/نقودالگ جنس کے ہوں تو بھی شرکت صحیح رہے گی،یعنی اگر ایک طرف سےسوناہے تو دوسری طرف سےچاندی، یا  ایک طرف سے درہم ہیں تو دوسری طرف سےدینارہوں تو جائزہے۔اور حاصل ہونےوالےنفع ونقصان میں دونوں شریک ہوں گے۔ (قاضی خان، المبسوط  للسرخسي11/163رشیدیۃ)

نمبر ۲۔شرکاءکی شرائط وحقوق

نمبر ۱۔      شرکاء میں ہرایک دوسرےکاوکیل ہوگا، لہٰذا جو لوگ وکیل بن سکتے ہیں، وہ شریک بھی بن سکتے ہیں

جیسے بچہ  جس کوتجارت کی اجازت ملی ہوئی ہو،ایساناسمجھ آدمی  جوخریدوفروخت کی سمجھ رکھتاہو(المبسوط للسرخسي (11/163رشیدیۃ)

نمبر ۲۔دونوں شریکوں میں سے ہر ایک کومشترک سامانِ تجارت  فروخت کرنے کا حق حاصل ہے ۔

نمبر ۳۔ہر شریک تجارت سے متعلق سارے جائز معاملات کرسکتاہے،البتہ کوئی شریک مشترک سامانِ تجارت

میں سے کوئی چیز دوسروں کی رضامندی کے بغیرنہ ہدیہ کرسکتا ہے اور نہ ہی قرض دے سکتاہے ۔

نمبر ۴۔ہر شریک کو کاروباری ضروریات کے لئے ملازم رکھنے کا حق حاصل ہے ۔

نمبر ۵۔کاروباری ضروریات کےلئےایک جگہ سےدوسری جگہ سفرکیاجاسکتاہے،البتہ اگرعقدشرکت میں

دوسری جگہ نہ جانے کی شرط لگادی ہو تو سفر کرنا ممنوع ہوگا ۔(بدائع الصنائع،الحاوی القدسی)

نمبر ۶۔یہ بھی طے ہوناچاہئے کہ ہر شریک کام کرے گا یا کچھ شرکاء کام کریں گے ۔

نمبر ۷۔ کام کرنے والے شرکاء یا تمام شرکاءکو دی جانے والی  سہولیات مثلا:گاڑی ،فون وغیرہ طے کرلی جائیں ۔

نمبر ۳۔نفع  کی شرائط

نمبر ۱۔نفع کا تناسب سرمایہ کے تناسب کے بجائے حاصل ہونے والے حقیقی نفع کی بنیاد پر طے کرناضروری ہے،

یعنی ہر شریک کو کتنا حصہ یا کتنے فیصد نفع ملے گا ؛تاکہ منافع (معقود علیہ )مجہول نہ رہیں۔( بدائع الصنائع)

نمبر ۲۔نفع ونقصان میں ہرشریک شامل ہوگا ، کسی ایک شریک کو کل  یا بعض نفع ونقصان کےلئے مخصوص کرنے

سے شرکت فاسد  ہوجائےگی، یعنی نفع کی کوئی متعین مقدار کسی شریک کےلئے مخصوص نہ کی جائے ،مثلا

نفع میں سے دس ہزار فلاں شریک کو ضرورملیں  گے۔( بدائع الصنائع)

نمبر۳۔ کام کرنے والے شرکاء کے لئے نفع کے طے شدہ تناسب کے علاوہ کچھ اجرت مقررکرنا بھی جائز ہے ۔

نمبر ۴۔جو شرکاء کام میں شریک نہ ہوں،ان کےلئےسرمایہ کاری کےتناسب سےزائدنفع مقررکرناجائز نہیں، البتہ اس سے کم نفع مقررکرنا درست  ہے۔( الدر المختار )

نمبر ۵۔اگر کاروبار میں نقصان ہوجائے توہرشریک کانقصان اس کے مال کےتناسب سےہوگا۔ (الفتاوى الهندية)

نمبر ۴۔معاہدہ 

نمبر ۱۔معاہدہ تحریری ہونا چاہئے،جس میں کسی قسم کاابہام نہ ہو۔

نمبر ۲۔یہ معاہدہ دوگواہوں کی موجودگی میں ہوناچاہئے ۔( الفتاوى الهندية، رد المحتار)

نمبر ۵۔شرکت کو فسخ کرنے کے اصول 

نمبر ۱۔جس مقصدکےپیش نظرشرکت کی گئی تھی،اگروہ حاصل ہوگیاتوچونکہ شرکت کےمقصدکی تکمیل ہوگئی؛

 لہٰذا اب عقد شرکت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

اب حاصل ہونے والا نفع طے شدہ شرح کے حساب سے تقسیم کرلیاجائے اوراگر نقصان ہوا ہے تو ہر فریق اپنی سرمایہ کاری کے تناسب سے اسے برداشت کرلے گا۔

نمبر ۲۔عقدِشرکت میں ہر شریک  کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت دوسرے شریک کو نوٹس دیکرشرکت

ختم کرسکتا ہے،ایسے نوٹس کے ذریعے اسے ختم تصور کیا جائے گا ۔( الدر المختار )

اس صورت میں اگرشرکت کےسارے اثاثے نقد شکل میں ہوں تو ہر شریک کے سرمایہ کے تناسب سےان حصوں کوتقسیم کریں گے،اس کےبعداگرکوئی نفع ہواہو تو وہ طے شدہ شرح کے مطابق شرکاء میں تقسیم ہوجائے گا ۔

لیکن اگر  اثاثہ  جات سیال / نقد شکل  میں نہ ہوں تو دوکاموں میں سے ایک ہوسکتاہے ، یا تو اثاثہ  جات کو بیچ کر نقد میں تبدیل کرلیا جائے  ،یا اسی حالت میں تقسیم کرلیا جائے ، اگر اس معاملے پر شرکاءمیں اختلاف ہو کہ بعض بیج کر نقد شکل میں اور بعض اسی حالت میں تقسیم کرنا چاہتے  ہوں تو دوسری صورت کو ترجیح دی جائے گی ۔

نمبر ۳۔اگر شرکت کی مدت کے دوران شرکاء میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو مرنے والے کے ساتھ عقد شرکت ختم ہوجائےگا ، اس صورت میں مرنے والے کے ورثاء کو اختیار ہوگا کہ چاہیں  تو مرنے والے  کا حصہ

 واپس لے لیں اور چاہیں تو شرکت کے اس معاہدہ کو جاری رکھیں۔ (الفتاوى الهندية)

نمبر ۴۔اگر شرکاء میں سے کوئی مجنون ہوجائے تو یا کسی اور وجہ سے تجارتی معاہدے کرنے کااہل اہل نہ رہے ، تو

عقد شرکت ختم ہوجائے گا  ۔( الدر المختار )

نمبر ۵۔ اگرشرکاءمیں سےکوئی ایک عقدشرکت ختم کرنا چاہےاور باقی شرکاءکاروبارجاری رکھناچاہتےہوں

توباہمی معاہدےسےیہ مقصدحاصل کیاجاسکتاہے،جولوگ کاروبار جاری رکھناچاہیں،وہ اُس شریک کا حصہ خرید سکتےہیں جوشراکت ختم کرناچاہتاہے

 المبسوط، محمد بن أحمد السرخسي(م: 483هـ) (11/162-164)رشيدية
(فأما العنان) … (وقيل) : هو مأخوذ من عنان الدابة، على معنى أن راكب الدابة يمسك العنان بإحدى يديه، ويعمل بالأخرى، وكل واحد من الشريكين يجعل عنان التصرف في بعض المال إلى صاحبه دون البعض، أو على معنى أن للدابة عنانين: أحدهما أطول، والآخر أقصر، فيجوز في هذه الشركة أن يتساويا في رأس المال، والربح، أو يتفاوتا؛ فسميت عنانا… (وأما شركة العنان) فهو أن يشترك الرجلان برأس مال يحضره كل واحد منهما، ولا بد من ذلك، إما عند العقد، أو عند الشراء حتى أن الشركة لا تجوز برأس مال غائب، أو دين. ولا يشترط لجواز هذه الشركة خلط المالين ” عندنا ” ۔
بدائع الصنائع ،العلامة علاء الدين الكاساني(م: 587هـ) (6/ 59)دارالكتب العلمية
ولو كان من أحدهما دراهم، ومن الآخر عروض، فالحيلة في جوازه: أن يبيع صاحب العروض نصف عرضه بنصف دراهم صاحبه، ويتقابضا، ويخلطا جميعا حتى تصير الدراهم بينهما، والعروض بينهما، ثم يعقدان عليهما عقد الشركة فيجوز۔
فتاوى قاضه خان، العلامة فخر الدين(م: 592) رشيدية
أما شركة المال عنان ومفاوضة وشرط جوازهما أن يكون رأس مالهما من الأثمان من الدراهم والدنانير وأن يكون المال  حاضرًا في المجلس أو غائبًا  من يحضره عند الشراء  ولا يصح رأس المال دينًا۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252ه)(4/ 312،311)سعيد
(قوله: من أهل التوكيل) أي توكيل غيره، فتصح من الصبي المأذون بالتجارة وفي حكمه المعتوه… قلت: والظاهر أن هذا محمول على ما إذا كان العمل مشروطا على أحدهما۔ وفي النهر: اعلم أنهما إذا شرطا العمل عليهما إن تساويا مالا وتفاوتا ربحا جاز عند علمائنا الثلاثة خلافا لزفر والربح بينهما على ما شرطا وإن عمل أحدهما فقط؛ وإن شرطاه على أحدهما، فإن شرطا الربح بينهما بقدر رأس مالهما جاز، ويكون مال الذي لا عمل له بضاعة عند العامل له ربحه وعليه وضيعته، وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله جاز أيضا على الشرط ويكون مال الدافع عند العامل مضاربة، ولو شرطا الربح للدافع أكثر من رأس ماله لا يصح الشرط ويكون مال الدافع عند العامل بضاعة لكل واحد منهما ربح ماله والوضيعة بينهما على قدر رأس مالهما أبدا هذا حاصل ما في العناية اهـ ما في النهر۔
الفتاوى الهندية (2/ 319، 323)دارالفكر
 أما شركة العنان فهي أن يشترك اثنان في نوع من التجارات بر أو طعام أو يشتركان في عموم التجارات ولا يذكران الكفالة خاصة، كذا في فتح القدير، وصورتها أن يشترك اثنان في نوع خاص من التجارات أو يشتركان في عموم التجارات ولا يذكران الكفالة والمفاوضة فيها فتضمنت معنى الوكالة دون الكفالة حتى تجوز هذه الشركة بين كل من كان من أهل التجارة… وإن اشتريا بالدراهم متاعا ثم بعده بالدنانير متاعا فوضعا في أحدهما وربحا في الآخر فالربح والوضيعة عليهما على قدر ملكيهما في المشترى يوم الشراء وهو الصحيح۔ فإذا سافر أحدهما بالمال وقد أذن له شريكه بالسفر، أو قيل له: اعمل برأيك، أو عند إطلاق الشركة على الرواية الصحيحة عن أبي حنيفة ومحمد – رحمهما الله تعالى – فله أن ينفق من جملة المال على نفسه في كرائه ونفقته وطعامه وإدامه من رأس المال، روى ذلك الحسن عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – قال محمد – رحمه الله تعالى -: وهذا استحسان، كذا في البدائع فإن ربح تحسب النفقة من الربح، وإن لم يربح كانت النفقة من رأس المال، كذا في خزانة المفتين
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس