( 11/163)رشیدیۃ)
مذکورہ شرکت میں فقہاءکرام نے سرمایہ ،شرکاء ،نفع وغیرہ سے متعلق جو شرائط ذکر کی ہیں ، اُن کی رعایت کرنا ضروری ہے ، ذیل میں وہ شرائط ذکر کی جاتی ہیں
نمبر ۱۔راس المال / سرمایہ کی شرائط
نمبر۱۔خریداری کے وقت راس المال میں سے کم از کم ایک فریق کا ما ل موجود ہونا ضروری ہے(بدائع الصنائع) ۔
نمبر ۲۔ جو مال غیر موجود ہو یا لوگوں کے پاس قرض کی شکل میں ہو اُسے وصولی سے اور حاضر کرنے سے
پہلے شرکت کا سرمایہ نہیں بنایاجاسکتا ۔( الدر المختار )
نمبر ۳۔سرمایہ نقد شکل میں ہوناچاہئے، اگرسرمایہ/راس المال نقد نہ ہو، بلکہ سامان ہو توشرکاء اپنے اپنے
سامان کا نصف حصہ ایک دوسرے کو بیچ دیں،اس طرح ان کے سامانوں میں شرکت ِملک قائم ہوجائے گی اور وہ اس کے ذریعے تجارت کرسکیں گے۔( رد المحتار )
نمبر ۴۔خریداری کے وقت مال شرکت کی مقدار واضح ہوناچاہئے ۔مثلا ایک کا حصہ ٪40 اوردوسرے کا
٪60 حصہ ہے(المبسوط للسرخسي11/163رشیدیۃ)
نمبر ۵۔عقد شرکت میں سرمایہ مخلوط کرنا ضروری نہیں ہے؛لہٰذااگرسرمایہ میں دونوں طرف سے
کرنسی/نقودالگ جنس کے ہوں تو بھی شرکت صحیح رہے گی،یعنی اگر ایک طرف سےسوناہے تو دوسری طرف سےچاندی، یا ایک طرف سے درہم ہیں تو دوسری طرف سےدینارہوں تو جائزہے۔اور حاصل ہونےوالےنفع ونقصان میں دونوں شریک ہوں گے۔ (قاضی خان، المبسوط للسرخسي11/163رشیدیۃ)
نمبر ۲۔شرکاءکی شرائط وحقوق
نمبر ۱۔ شرکاء میں ہرایک دوسرےکاوکیل ہوگا، لہٰذا جو لوگ وکیل بن سکتے ہیں، وہ شریک بھی بن سکتے ہیں
جیسے بچہ جس کوتجارت کی اجازت ملی ہوئی ہو،ایساناسمجھ آدمی جوخریدوفروخت کی سمجھ رکھتاہو(المبسوط للسرخسي (11/163رشیدیۃ)
نمبر ۲۔دونوں شریکوں میں سے ہر ایک کومشترک سامانِ تجارت فروخت کرنے کا حق حاصل ہے ۔
نمبر ۳۔ہر شریک تجارت سے متعلق سارے جائز معاملات کرسکتاہے،البتہ کوئی شریک مشترک سامانِ تجارت
میں سے کوئی چیز دوسروں کی رضامندی کے بغیرنہ ہدیہ کرسکتا ہے اور نہ ہی قرض دے سکتاہے ۔
نمبر ۴۔ہر شریک کو کاروباری ضروریات کے لئے ملازم رکھنے کا حق حاصل ہے ۔
نمبر ۵۔کاروباری ضروریات کےلئےایک جگہ سےدوسری جگہ سفرکیاجاسکتاہے،البتہ اگرعقدشرکت میں
دوسری جگہ نہ جانے کی شرط لگادی ہو تو سفر کرنا ممنوع ہوگا ۔(بدائع الصنائع،الحاوی القدسی)
نمبر ۶۔یہ بھی طے ہوناچاہئے کہ ہر شریک کام کرے گا یا کچھ شرکاء کام کریں گے ۔
نمبر ۷۔ کام کرنے والے شرکاء یا تمام شرکاءکو دی جانے والی سہولیات مثلا:گاڑی ،فون وغیرہ طے کرلی جائیں ۔
نمبر ۳۔نفع کی شرائط
نمبر ۱۔نفع کا تناسب سرمایہ کے تناسب کے بجائے حاصل ہونے والے حقیقی نفع کی بنیاد پر طے کرناضروری ہے،
یعنی ہر شریک کو کتنا حصہ یا کتنے فیصد نفع ملے گا ؛تاکہ منافع (معقود علیہ )مجہول نہ رہیں۔( بدائع الصنائع)
نمبر ۲۔نفع ونقصان میں ہرشریک شامل ہوگا ، کسی ایک شریک کو کل یا بعض نفع ونقصان کےلئے مخصوص کرنے
سے شرکت فاسد ہوجائےگی، یعنی نفع کی کوئی متعین مقدار کسی شریک کےلئے مخصوص نہ کی جائے ،مثلا
نفع میں سے دس ہزار فلاں شریک کو ضرورملیں گے۔( بدائع الصنائع)
نمبر۳۔ کام کرنے والے شرکاء کے لئے نفع کے طے شدہ تناسب کے علاوہ کچھ اجرت مقررکرنا بھی جائز ہے ۔
نمبر ۴۔جو شرکاء کام میں شریک نہ ہوں،ان کےلئےسرمایہ کاری کےتناسب سےزائدنفع مقررکرناجائز نہیں، البتہ اس سے کم نفع مقررکرنا درست ہے۔( الدر المختار )
نمبر ۵۔اگر کاروبار میں نقصان ہوجائے توہرشریک کانقصان اس کے مال کےتناسب سےہوگا۔ (الفتاوى الهندية)
نمبر ۴۔معاہدہ
نمبر ۱۔معاہدہ تحریری ہونا چاہئے،جس میں کسی قسم کاابہام نہ ہو۔
نمبر ۲۔یہ معاہدہ دوگواہوں کی موجودگی میں ہوناچاہئے ۔( الفتاوى الهندية، رد المحتار)
نمبر ۵۔شرکت کو فسخ کرنے کے اصول
نمبر ۱۔جس مقصدکےپیش نظرشرکت کی گئی تھی،اگروہ حاصل ہوگیاتوچونکہ شرکت کےمقصدکی تکمیل ہوگئی؛
لہٰذا اب عقد شرکت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
اب حاصل ہونے والا نفع طے شدہ شرح کے حساب سے تقسیم کرلیاجائے اوراگر نقصان ہوا ہے تو ہر فریق اپنی سرمایہ کاری کے تناسب سے اسے برداشت کرلے گا۔
نمبر ۲۔عقدِشرکت میں ہر شریک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت دوسرے شریک کو نوٹس دیکرشرکت
ختم کرسکتا ہے،ایسے نوٹس کے ذریعے اسے ختم تصور کیا جائے گا ۔( الدر المختار )
اس صورت میں اگرشرکت کےسارے اثاثے نقد شکل میں ہوں تو ہر شریک کے سرمایہ کے تناسب سےان حصوں کوتقسیم کریں گے،اس کےبعداگرکوئی نفع ہواہو تو وہ طے شدہ شرح کے مطابق شرکاء میں تقسیم ہوجائے گا ۔
لیکن اگر اثاثہ جات سیال / نقد شکل میں نہ ہوں تو دوکاموں میں سے ایک ہوسکتاہے ، یا تو اثاثہ جات کو بیچ کر نقد میں تبدیل کرلیا جائے ،یا اسی حالت میں تقسیم کرلیا جائے ، اگر اس معاملے پر شرکاءمیں اختلاف ہو کہ بعض بیج کر نقد شکل میں اور بعض اسی حالت میں تقسیم کرنا چاہتے ہوں تو دوسری صورت کو ترجیح دی جائے گی ۔
نمبر ۳۔اگر شرکت کی مدت کے دوران شرکاء میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو مرنے والے کے ساتھ عقد شرکت ختم ہوجائےگا ، اس صورت میں مرنے والے کے ورثاء کو اختیار ہوگا کہ چاہیں تو مرنے والے کا حصہ
واپس لے لیں اور چاہیں تو شرکت کے اس معاہدہ کو جاری رکھیں۔ (الفتاوى الهندية)
نمبر ۴۔اگر شرکاء میں سے کوئی مجنون ہوجائے تو یا کسی اور وجہ سے تجارتی معاہدے کرنے کااہل اہل نہ رہے ، تو
عقد شرکت ختم ہوجائے گا ۔( الدر المختار )
نمبر ۵۔ اگرشرکاءمیں سےکوئی ایک عقدشرکت ختم کرنا چاہےاور باقی شرکاءکاروبارجاری رکھناچاہتےہوں
توباہمی معاہدےسےیہ مقصدحاصل کیاجاسکتاہے،جولوگ کاروبار جاری رکھناچاہیں،وہ اُس شریک کا حصہ خرید سکتےہیں جوشراکت ختم کرناچاہتاہے