بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سسر کا بہو کے ساتھ بوس و کنار کرنا

سوال

آج سے تقریبادو سال قبل میرے سسر میرے کچن میں آئے اور مجھے بوس وکنار کیا جس میں مجھے غالب گمان ہوا کہ وہ آج کچھ غلط نہ کر دیں لیکن میں اس وقت شریعت کے اس مسئلے سے بھی نا واقف تھی اور سسر کے اس حد تک پیار کرنے سے بھی ،واضح رہے کہ شفقتا ً بوس وکنار وہ اپنی بیٹیوں کو بھی اکثر کرتے ہیں اور بہووں کو بھی اب تقریبا ً دو ہفتہ قبل وہ دوبارہ اسی طرح حسب عادت آئے اور چہرے اور گردن پر بوسہ دیا جبکہ میرے شوہر میری اس بات کے نہ اقراری ہیں نہ انکاری اب سوال یہ ہے کہ میری لا علمی اور شوہر کے انکاری ہونے کے باوجود ہمارے درمیان حرمت مصاہرت واقع ہوگئی تھی یا نہیں؟ اگر ہوگی تو واپسی کی کوئی صورت متوقع ہیں یا نہیں ؟

جواب

بوس و کنار

سوال میں آپ نے جو وضاحت کی ہے کہ آپ کے سسر بسا اوقات شفقتا ً اپنی بہووں کا بوسہ لے لیتے ہیں اس بنیاد پر اگر بوسہ لیتے وقت ان کو شہوت کا ہونا یقینی نہ ہو اور آپ کے شوہر بھی آپ کی بات کی تصدیق نہ کرتے ہوں تو آپ دونوں کا نکاح بدستور قائم اور باقی ہے۔تاہم واضح رہے کہ سسر کا شفقتاً بوسہ لینا درست نہیں ہے اس پر لازم ہے کہ آئندہ ایسے عمل سے اجتناب کرے اور عورت کو سسر وغیرہ کے لئے ایسا موقعہ دینابھی درست نہیں ہے ۔
الدر المختار (۴/۱۲۱)رشیدیۃ
(وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هي
رد المحتار(۴/۱۲۱)رشیدیۃ
والحاصل: أنه إذا أقر بالنظر وأنكر الشهوة صدق بلا خلاف، وفي المباشرة لا يصدق بلا خلاف فيما أعلم وفي التقبيل اختلف فيه قيل لا يصدق لأنه لا يكون إلا عن شهوة غالبا، فلا يقبل إلا أن يظهر خلافه بالانتشار ونحوه، وقيل يقبل، وقيل بالتفصيل بين كونه على الرأس والجبهة والخد فيصدق أو على الفم فلا والأرجح هذا إلا أن الخد يتراءى إلحاقه بالفم
 الفتاوى الهندية (1/ 302)بیروت
كما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة، كذا في الذخيرة. سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا، كذا في الملتقط. قال أصحابنا: الربيبة وغيرها في ذلك سواء هكذا في الذخيرة. والمباشرة عن شهوة بمنزلة القبلة وكذا المعانقة وهكذا في فتاوى قاضي خان. وكذا لو عضها بشهوة هكذا ف الخلاصة
فتح القدير (3/177)رشیدیۃ
 والحاصل أنه إذا أقر بالنظر وأنكر الشهوة صدق بلا خلاف، وفي المباشرة إذا قال بلا شهوة لا يصدق بلا خلاف فيما أعلم، وفي التقبيل إذا أنكر الشهوة اختلف فيه، قيل لا يصدق لأنه لا يكون إلا عن شهوة غالبا فلا يقبل إلا أن يظهر خلافه بالانتشار ونحوه، وقيل يقبل، وقيل بالتفصيل بين كونه على الرأس والجبهة والخد فيصدق أو على الفم فلا، والأرجح هذا إلا أن الخد يتراءى إلحاقه بالفم
ا لبحر الرائق (۳/۱۷۷)رشیدیۃ
  وقید بكون اللمس عن شهوة؛ لأنه لو كان عن غير شهوة لم يوجب الحرمة والمراهق كالبالغ ووجود الشهوة من أحدهما كاف، فإن ادعتها وأنكرها فهو مصدقا لو مس أو قبل وقال لم أشته صدق إلا إذا كان اللمس على الفرج     والتقبیل في الفم
النتف في الفتاوى (۱۶۴)بیروت
ان كان بينهما أي بين الزوجين احد السبعة وهي الجماع في الفرج والجماع فيما دون الفرج والمباشرة بشهوة او المعانقة بشهوة او اللمس بشهوة والتقبيل بشهوة والنظر الى الفرج بشهوة فان لم يكن بينهما شيء من هذه الاشياء لم يحرمن عليه ولا يحرم هو عليهن.
فتاوی محمودیہ(۱۱/۳۸۱)فاروق
فتاوی دارالعلوم  دیو بند(۷/۲۸۸ِ /۲۸۰)حقانیۃ
فتاوی عثمانی (۲/۲۵۵)معارف القران
  کفایت المفتی (۶/۵۹۹)فاروق
حیلہ ناجزہ(۱۹۲)دارالاشاعت
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس