آجکل بندہ کےگاؤں میں ایسےہوتاہےکہ بہت سارےجاہل لوگ مسجدمیں جمع ہوجاتے ہیں اورجب نمازکاوقت آتاہےتوایک دوسرےکوکہتےہیں کہ نمازپڑھاؤتواگر ان میں سےکوئی ایک نمازپڑھانی شروع کر دے اور اس دوران کوئی قاری یا عالم آکراس کی اقتدا کرے تو: 1۔ کیااس قاری عالم کی اقتدا کی وجہ سےاس کی نمازاداہوجائیگی جبکہ امام صاحب کوسورۃالفاتحہ اورسورۃالاخلاص کے علاوہ کچھ بھی پتہ نہیں؟ 2۔اس امام صاحب کواس بات کاعلم بھی نہیں کہ میراکوئی قاری مقتدی ہےکیااس امام کی نمازہوجائے گی؟ 3۔اگرامام کو اس بات کاعلم بھی ہو کہ میرا کوئی قاری عالم ہے توکیا اس کی نمازجائز یانہیں؟
سوال میں ذکرکردہ تمام صورتوں میں نمازتودرست ہوجائےگی مگرایسےشخص کی موجودگی میں جس کومختلف سورتیں یادہوں اورقرآن ِ حکیم کی تلاوت بھی درست کرتاہو،ایسےشخص کوامام بناناجس کوصرف سورۃ الاخلاص ہی آتی ہواورصحیح باتجویدقراءت بھی نہ کرسکتاہوجائزنہیں۔ نیزاہل علاقہ پر لازم ہے کہ جوشخص قرآن ِ پاک صاف، صحیح پڑھ سکتا ہو اورموجودہ امام کی نسبت زیادہ علم رکھتاہو،ایسے امام کاانتظام کریں۔