بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زوال کی حقیقت اور اس وقت نمازکےممنوع ہونے کی وجہ؟

سوال

ایک آدمی نےمیرےسےپوچھاکہ زوال کی حقیقت کیاہےاوراس کایہ کہناکہ جیسےنمازکی حقیقت ہےکہ اللہ تعالیٰ نےپہلے50نمازیں فرض کیں پھرپچاس سےکم ہوتی ہوئی5نمازیں فرض ہوئیں  اسی طرح زوال کی حقیقت کیاہےاوراس کاحکم کیسےلگااورزوال کےوقت میں نمازاورسجدہ وغیرہ کیوں نہیں کرسکتے؟

جواب

زوال کی حقیقت یہ ہےکہ زوال استواءِشمس کےوقت کوکہاجاتاہےیعنی دوپہرکےوقت سورج سَروں پرآجائےیہ بہت ہی مختصرساوقت ہوتاہےجوچندلمحات پرمشتمل ہوتاہےاورایک منٹ سےبھی كم وقت میں پوراہوجاتاہےاس کےفوراًبعدنمازظہرکاوقت شروع ہوجاتاہےاحادیثِ مبارکہ میں حضورﷺنےطلوعِ آفتاب،زوال اورغروب ِآفتاب کےاوقات میں نمازپڑھنےسےمنع فرمایاہےکیونکہ یہ سورج کی پرستش کرنے والوں کی عبادت کےاوقات ہیں اس لئےان میں نماز پڑھنااورسجدہ کرناممنوع ہے۔البتہ واضح رہےکہ زوال کےصحیح وقت کومعلوم کرنامشکل ہےاوراوقات کومعلوم کرنےکےجو مروجہ طریقےاورکیلنڈرزوغیرہ ہیں ان میں کمی بیشی کاامکان موجودہےاس لئےاطمینان کےلئےکیلنڈرز میں جوزوال  کاوقت  درج  ہوتاہےاس سےپہلےاور بعدمیں پانچ  منٹ احتیاطاًانتظار کرلیاجاتاہے۔
الصحيح لمسلم بن الحجاج النيسابوري (م:261هـ)(1/ 568)دارإحياء التراث العربي
عن موسى بن علي، عن أبيه، قال: سمعت عقبة بن عامر الجهني، يقول: ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا أن نصلي فيهن، أو أن نقبر فيهن موتانا: «حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع، وحين يقوم قائم الظهيرة حتى تميل الشمس، وحين تضيف الشمس للغروب حتى تغرب»۔
في شرح النووي تحته،محيي الدين يحيى بن شرف النووي(م: 676هـ)(6/ 114)بيروت
الظهيرة حال استواء الشمس ومعناه حين لا يبقى للقائم في الظهيرة ظل في المشرق ولا في المغرب۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(1/371)سعيد
وقد وقع في عبارات الفقهاء أن الوقت المكروه هو عند انتصاف النهار إلى أن تزول الشمس ولا يخفى أن زوال الشمس إنما هو عقيب انتصاف النهار بلا فصل۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس