بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

روزوں اورنمازوں کےفدیہ کا مسئلہ

سوال

مسئلہ یہ ہےکہ آدمی بیمارتھااوراس کےبارہ(12)سال کےروزےرہ گئےتھےاوراس بیماری کی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا،آیااب ان کےاہلِ خانہ پران روزوں کافدیہ دیناواجب ہوگایانہیں؟اورحال یہ ہےکہ انہوں نے مرنےسےپہلےوصیت نہیں کی تھی۔اوراسی طرح ان بھائی کی دو مہینے کی نمازیں بھی قضاء ہوئی ہیں۔اب حال یہ ہےکہ ان کےاہلِ خانہ اس فدیہ کےاداکرنےکی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔ان بھائی(جن کاانتقال ہوگیا)کی جیب سے1900 روپےنکلےتھےجن کوصدقہ کردیاگیا۔اس کےعلاوہ ان کی ملکیت میں اور کچھ نہیں تھا۔
تنقیح (الف):  مذکورہ شخص بارہ سال مستقل بیمار رہ کر فوت ہوا یا  مرنے سے پہلے کچھ وقت  ٹھیک بھی رہا تھا؟
جواب تنقیح:     یہ شخص مستقل بیمارہی رہایہاں تک اسی بیماری کی حالت میں انتقال کرگیا، اس کومرنے سے پہلے اتناعرصہ صحت ہی نہیں ملی جس میں وہ روزہ وغیرہ کی قضاء کرسکے ۔ اوروہ اتنابیماررہاکہ اس مرض میں روزہ نہیں رکھ سکتاتھا۔
تنقیح (ب):   1۔وہ میت کے ترکہ میں سےجو1900روپےصدقہ کردیایہ کس نیت سےصدقہ کیا؟ 2۔میت کےورثاءمیں کوئی نابالغ بھی ہے؟ 3۔کیا مذکورہ  شخص روزوں کی طرح نماز کی ادائیگی سےبھی قاصر تھے؟یا کبھی پڑھتے تھے خواہ بیٹھ کر ہو یا اشارہ سے؟
جواب تنقیح:   1۔میت کےترکہ سےصرف جو1900روپےنکلےتھےجن میں ایک ہزارملاکرفدیہ اداکردیاتھا یعنی  1900روپےنماز کا فدیہ اداکیا ہے۔
لیکن صرف آخری دومہینے نماز نہیں پڑھی حالانکہ آخری دومہینےاشارےسےنمازپڑھنےپرقادرتھے۔

جواب

مذکورہ شخص چونکہ مسلسل بیماری میں مبتلاتھا، اس کوروزوں کی قضاءکرنےکاموقع نہیں ملا،جس کی وجہ سےاس شخص پر روزوں کی قضاء واجب نہیں تھی اوراس پروصیت کرنابھی واجب نہ تھا۔ لہٰذا ورثاءکےذمے بھی اس کی وصیت کوپوراکرنا ضروری نہیں ۔ اسی طرح مرض کی حالت میں جو  نمازیں رہ گئی ہیں اگر ان کی وصیت نہیں کی تو ورثاء پراس کافدیہ ادا کرنا لازم نہیں ۔ البتہ مرحوم کی جیب سے نکلنے والی رقم میں چونکہ تمام ورثاء کا حصہ تھا اس لئے اگراس رقم کو تمام ورثاء نے رضامندی سے فدیہ میں ادا کیا تو درست ہے ۔
الفتاوی التاتارخانیة،العلامة فرید الدین (م:786ه)(3/407) فاروقیه کوئتة
(مسئله4707) وإذا استدام المرض أو السفر حتی مات فلا قضاء علیه۔
بدائع الصنائع،العلامةعلاء الدين  الكاساني(م:587ه)(2/628)دارالكتب العلمية
وأما بيان شرائط وجوبه فمنها القدرة على القضاء حتى لو فاته صوم رمضان بعذر المرض أو السفر ولم يزل مريضا أو مسافرا حتى مات – لقي الله ولا قضاء عليه؛ لأنه مات قبل وجوب القضاء عليه، لكنه إن أوصى بأن يطعم عنه صحت وصيته وإن لم يجب عليه، ويطعم عنه من ثلث ماله لأن صحة الوصية لا تتوقف على الوجوب كما لو أوصى بثلث ماله للفقراء أنه يصح، وإن لم يجب عليه شيء كذا هذا فإن برئ المريض أو قدم المسافر وأدرك من الوقت بقدر ما فاته يلزمه قضاء جميع ما أدرك، لأنه قدر على القضاء لزوال العذر، فإن لم يصم حتى أدركه الموت فعليه أن يوصي بالفدية وهي أن يطعم عنه لكل يوم مسكينا لأن القضاء قد وجب عليه ثم عجز عنه بعد وجوبه بتقصير منه فيتحول الوجوب إلى بدله وهو الفدية۔
 الفتاوى الهندية(1/207) دارالفكر
ولو فات صوم رمضان بعذر المرض أو السفر واستدام المرض والسفر حتى مات لا قضاء عليه لكنه إن أوصى بأن يطعم عنه صحت وصيته، وإن لم تجب عليه ويطعم عنه من ثلث ماله فإن برئ المريض أو قدم المسافر، وأدرك من الوقت بقدر ما فاته فيلزمه قضاء جميع ما أدرك فإن لم يصم حتى أدركه الموت فعليه أن يوصي بالفدية۔
المحيط البرهاني،أبو المعالي برهان الدين محمود بن أحمد (م:616هـ)(2/391)دار الكتب العلمية 
إذا استدام السفر أو المرض حتى مات، فلا قضاء عليه؛ لأن وجوب القضاء مؤخر إلى وقت زوال العذر، فيبقى التأخير ما بقي العذر، وإن زال العذر بالصحة أو الإقامة وجب القضاء، واختلف أصحابنا في وقت القضاء، منهم قال: بأن القضاء على الفور،ومنهم من قال: بأنه مؤقت بما بين رمضانين، وبه أخذ أبو الحسن الكرخي، والصحيح أنه على التراخي لقوله تعالى: {فعدة من أيام أخر} (البقرة: 184) من غير فصل، وعن هذا قال أصحابنا رحمهم الله: لا يكره لمن عليه قضاء رمضان أن يتطوع بالصوم؛ لأن الوجوب ليس على الفور قد قال أصحابنا: إذا أخر قضاء رمضان حتى دخل رمضان آخر، فلا فدية عليه، وهو بناءً على ما قلنا: إن القضاء غير مؤقت، فكان رجاء القضاء ثانياً، ومع رجاء القضاء لا تلزمه الفدية، فإن لم يصم بعدما صح، أو أقام حتى مات، فعليه أن يوصي أن يطعم عنه؛ لأنه عجز عما هو واجب عليه، فينقل إلى ما يقوم مقامه، وكان عليه أن يوصي بالإطعام، ولا يجوز لابن أن يصوم عنه، وكذا لا يجب عليه الإطعام بدون الوصية؛ لأن العبادات لا يجوز أداؤها عن الغير إلا بالوصية كسائر العبادات وكحالة الحياة۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

2

/

48

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس