بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دو نمازوں کا جمع کرنا

سوال

شیعہ حضرات ظہر،عصراورمغرب، عشاء کی نماز اکٹھی ادا کرتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ اور ہم حنفی لوگ اسی طرح کرسکتےہیں اور شیعہ کس بنیاد پر نمازوں کو اکٹھا کرتے ہیں اورہم نہیں کرسکتے ۔راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

شریعت مطہرہ میں ہر نماز کا الگ وقت مقرر ہے قران مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے “بے شک نماز مسلمانوں پر فرض ہے اپنے مقرر وقتوں میں” ۔احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے حج کے موقع کے علاوہ کبھی بھی دو نمازوں کو جمع نہیں کیا البتہ جن روایات میں حج کے علاوہ جمع بین الصلاتین کا تذکرہ ہے تو اس سے جمع حقیقی نہیں بلکہ جمع صوری مراد ہے( یعنی ایک نماز کو آخری وقت تک مؤخر کرنا اور دوسری نماز کو اول وقت میں ادا کرنا )اس طرح یہ نمازیں اپنے اپنے اوقات میں ادا ہوئیں البتہ ان کی صورت جمع والی بن گئی لہذا اہل تشیع کی طرح نمازوں کو جمع کرنا قرآن وسنت کے مستند دلائل سے ثابت نہیں ۔
قال اللہ تعالی
{ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتا [النساء: 103]
صحيح البخاري(1/228)قديمي
 عن عبد الرحمن، عن عبد الله رضي الله عنه قال: ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم صلى صلاة بغير ميقاتها، إلا صلاتين: جمع بين المغرب والعشاء، وصلى الفجر قبل ميقاتها “۔۔
سنن الترمذي(1/39)قدیمی
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن للصلاة أولا وآخرا، وإن أول وقت صلاة الظهر حين تزول الشمس، وآخر وقتها حين يدخل وقت العصر، وإن أول وقت صلاة العصر حين يدخل وقتها، وإن آخر وقتها حين تصفر الشمس، وإن أول وقت المغرب حين تغرب الشمس، وإن آخر وقتها حين يغيب الأفق، وإن أول وقت العشاء الآخرة حين يغيب الأفق، وإن آخر وقتها حين ينتصف الليل، وإن أول وقت الفجر حين يطلع الفجر، وإن آخر وقتها حين تطلع الشمس۔
الفتاوى الهندية (1/ 64)بيروت
ولا يجمع بين الصلاتين في وقت واحد لا في السفر ولا في الحضر بعذر ما عدا عرفة والمزدلفة. كذا في المحيط۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس