بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دو بھائیوں کا صرف گھریلو خرچہ میں اشتراک ہو تو علاحدگی کاحکم

سوال

بندہ، والد صاحب اور چچا جان زمانہ دراز سے ایک ہی گھر میں اکھٹے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہمارا نفع ونقصان اور گھر یلو امور سب کچھ مشترک ہے۔ اب ہم آپس کے اختلافات اور گھر یلو جھگڑوں سے بچنے کےلئے علاحدگی اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس تقسیم میں کن چیزوں کو مدِنظر رکھا جائے گا، جبکہ میں ( سائل) والد اور چچا تینوں گھر یلو اخراجات پورے کرنے کےلئے مصروف عمل ہیں، کیا تقسیم صرف والد اورچچا کے اموال میں ہوگی یا میرا پیسہ اور مال بھی تقسیم کرتے وقت مدِنظر رکھا جائےگا۔ نیز اس طرح گھر کی مستورات کے پاس جو پیسے وغیرہ ہیں( شوہر ان کوجو دیتے تھے ذاتی خرچے کے لئے ) ان کو بھی مدِنظر رکھا جائےگا یا نہیں۔میرا مال تقسیم ہونے کی صورت میں قبل از تقسیم اگر میں یہ حیلہ اختیار کروں کہ میرے پاس جو رقم ہے اس سے ماں، بیوی کے لیے زیورات بنالوں یا ان کو ہبہ کروں تو میرا یہ حیلہ کرنا شرعا کیسا ہو گا۔

جواب

نیز والد اور چچا دونوں کی ملاز متیں جداجداد ہیں، صرف گھر یلو اخرجات ملا جلا کر کرتے ہیں۔ کاروبار کوئی مشترک نہیں۔ ایک پلاٹ دونوں بھائیوں کو وراثت میں ملا تھا، تعمیر پر جو خرچ ہوئے ، ان میں سے کچھ ان کو وراثت میں ملے تھے اور کچھ انہوں نے مشترکہ طور پر قرض لیا تھا۔
واضح رہے کہ صرف کھانا پکانا ، رہنا سہنا باہم مشترک ہونے کی وجہ سے جملہ املاک میں شراکت ثابت نہیں ہوتی جب تک اپنی آمدنی کے اشتراک کے حوالے سے کوئی عقد نہ کیا جائے، لہذا مذکورہ صورت میں چونکہ دونوں بھائیوں کی ملازمتیں جدا جدا ہیں اور انہوں نے شرکت کا کوئی باہمی عقد بھی نہیں کیا ، اس لئے دونوں اپنی آمدنی کے خود مالک ہیں۔ اور اس آمدنی سے انفرادی طور پر جوز یورات اور گھر یلو اشیا ء انہوں نے خریدی ہیں یا اپنی بیوی بچوں کو خرید کر دیں ہیں، وہ سب چیزیں بھی ان دونوں اوران کے اہل خان کی ذاتی ملکیت ہیں۔ نیز دیگر نقدی روپیہ وغیرہ بھی ان دونوں کی ذاتی ملکیت شمارہوں گے۔ لہذا تقسیم کے وقت ان چیزوں کو شامل نہیں کیاجائےگا۔ آپ کی آمدنی اور اس سے حاصل ہونے والی اشیاء آپ کی ذاتی ملکیت ہیں ۔لہذا وہ بھی تقسیم میں شامل نہیں ہوں گی۔چنانچہ آپ کو حیلہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔
البتہ جو پلاٹ آپ کے والد اور چچا کو وراثت میں ملا تھا، اور اس پر دونوں نے مشترکہ سرمایہ سے جو تعمیر کی ہے وہ گھر ان دونوں کے درمیان مشترک ہے، اسی طرح مشترکہ رقم سے اگر کوئی اورچیز خریدی گئی ہے وہ بھی مشتر کہ ہوگی ۔ لہذا گھر اور ان تمام مشتر کہ اشیاء کو باہمی رضا مندی سے آپس میں تقسیم کر لیں
 مجلة الأحكام العدلية(ص: 206) كارخانه تجارتِ كتب الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة
(المادة 1069) مثلما يتصرف صاحب الملك المستقل في ملكه كيفما شاء فأصحاب الملك المشترك يتصرفون أيضا بالاتفاق كذلك
(المادة 1070) يسوغ لأصحاب الدار المشتركة أن يسكنوا فيها معا , لكن إذا أدخل أحدهم أجنبيا إلى تلك الدار فللآخر منعه
(المادة 1071) يجوز لأحد الشريكين أن يتصرف مستقلا في الملك المشترك بإذن الآخر لكن لا يجوز له أن يتصرف تصرفا مضرا بالشريك
المادة (1072) ليس لأحد الشريكين أن يجبر الآخر بقوله له: بعني حصتك أو اشتر حصتي. غير أنه إذا كان الملك المشترك بينهما قابلا للقسمة والشريك ليس بغائب فله أن يطلب القسمة وإن كان غير قابل للقسمة فله أن يطلب المهايأة كما سيجيء تفصيله في الباب الثاني۔
(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم
رد المحتار، ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ)(4/ 307)سعيد
 فإذا كان سعيهم واحدا ولم يتميز ما حصله كل واحد منهم بعمله يكون ما جمعوه مشتركا بينهم بالسوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا كما أفتى به في الخيرية، وما اشتراه أحدهم لنفسه يكون له ويضمن حصة شركائه من ثمنه إذا دفعه من المال المشترك، وكل ما استدانه أحدهم يطالب به وحده.وقد سئل في الخيرية من كتاب الدعوى عن إخوة أشقاء عائلتهم وكسبهم واحد وكل مفوض لأخيه جميع التصرفات ادعى أحدهم أنه اشترى بستانا لنفسه. فأجاب: إذا قامت البينة على أنه من شركة المفاوضة تقبل۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس