بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دورانِ نماز ٹرین چل پڑے تو نماز توڑنا

سوال

چند لوگ ریلوے اسٹیشن پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ٹرین چل پڑی کیا ان کے لیے نماز توڑنا جائز ہے؟

جواب

اصولی طور پر دارن نماز جانی یا مالی نقصان کے خطرہ کے پیشِ نظر فقہاء کرام نے نماز توڑنے کی گنجائش دی ہے۔ چونکہ پیش آمدہ مسئلہ میں بھی مال کے ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہے ، لہٰذا ایسی حالت پیش آنے کی صورت میں شخص مذکور کو نماز توڑ نے کی رخصت حاصل ہے، البتہ اپنے مقام ر اس کی قضاء کرنا لازم ہے۔
:رد المحتار (1/ 654)
‌ويباح ‌قطعها لنحو قتل حية، وند دابة، وفور قدر، وضياع ما قيمته درهم له أو لغيره۔
:رد المحتار (2/ 52)
‌مطلب ‌قطع ‌الصلاة يكون حراما ومباحا ومستحبا وواجبا [تتمة] نقل عن خط صاحب البحر على هامشه أن القطع يكون حراما ومباحا ومستحبا وواجبا، فالحرام لغير عذر والمباح إذا خاف فوت مال، والمستحب القطع للإكمال، والواجب لإحياء نفس۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس