بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خواب میں تابوت میں مدفون شخص کا آکر یہ کہنا کہ ”مجھ سے اٹھا نہیں جاتا ”اس کی تعبیراوراس کی وجہ سے قبر کشائی کرنا

سوال

سات ،آٹھ سال پہلے میرے بھائی کا کراچی میں انتقال ہوا تھا، وہاں سے ان کی میت تابوت میں لائی گئی،تابوت سمیت ان کو دفن کیا گیا اب وہ خواب میں آتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ مجھ سے اٹھا نہیں جاتا ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ :1۔ اس کی تعبیر کیا ہے ؟2۔ اور کیا قبر کشائی کر کے میت کو تابوت سے نکال کر بغیر تابوت کے دفن کرنےکی شریعت میں اجازت ہے ؟

جواب

خواب کی تعبیر

شرعاً ضرورت کی وجہ سے تابوت میں بند کر کے دفنانے کی گنجائش ہے۔ البتہ مذکورہ صورت میں دفنانے کے بعد قبر کو کھولنا جائز نہیں ہے۔ اگر مرحوم کے ذمے حقوق اللہ یا حقوق العباد میں سے کچھ واجب ہوتو ان کو ادا کرنے کی یا تلافی کرنے کی فکر کی جائے تو یہ ان شاء اللہ مفید ہوگا۔
الفتاوى الهندية (1/ 167)
 ولا ينبغي إخراج الميت من القبر بعد ما دفن إلا إذا كانت الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة، كذا في فتاوى قاضي خان….. ولو وضع الميت لغير القبلة أو على شقه الأيسر أو جعل رأسه موضع رجليه وأهيل عليه التراب لم ينبش.
رد المحتار (2/ 236)سعيد:
 (قوله: ولا ينبش ليوجه إليها) أي لو دفن مستدبرا لها وأهالوا التراب لا ينبش لأن التوجه إلى القبلة سنة والنبش حرام.
الدر المختار (2/ 238)
 (ولا يخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة)
رد المحتار (2/ 238) سعيد:
(قوله إلا لحق آدمي) احتراز عن حق الله تعالى كما إذا دفن بلا غسل أو صلاة أو وضع على غير يمينه أو إلى غير القبلة فإنه لا ينبش عليه بعد إهالة التراب كما مر (قوله كأن تكون الأرض مغصوبة) وكما إذا سقط في القبر متاع أو كفن بثوب مغصوب أو دفن معه مال قالوا: ولو كان المال درهما۔
رد المحتار (2/ 234) سعيد:
(قوله: ولا بأس باتخاذ تابوت إلخ) أي يرخص ذلك عند الحاجة، وإلا كره قدمناه.
رد المحتار (2/ 234) سعيد:
 قال في الحلية عن الغاية: ويكون التابوت من رأس المال إذا كانت الأرض رخوة أو ندية مع كون التابوت في غيرها مكروها في قول العلماء قاطبة.
فتاوٰی دارالعلوم دیوبند( 5/322)، کفایت المفتی (5/518)،فتاوٰی محمودیہ (9/55)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس