میں خلیل الرحمن( بیلٹ کولیکشن فرم (A27 محترم جناب بھائی تحسین (تحسین) کی مبلغ تیرہ لاکھ (13،00،000) روپے نفع نقصان کے تحت مندر ذیل شرائط پر لگائیے
نمبر1- خلیل صاحب آڈر لینے کے بعد رقم تحسین صاحب سے لیں گے۔
نمبر2- اس رقم سے مال تیار کر کے پارٹی کو ڈلیورکریں گے۔
نمبر3- اس مال میں جو نفع ہوگا وہ دونوں پارٹیز(تحسین صاحب اور خلیل)آدھا آدھا کریں گے۔
نمبر4- مال بنا کر دینے کے بعد تقریبا ڈیڑھ(1.5) سے دو(2) ماہ میں پارٹی سے پیمنٹ آ جائے گی۔
نمبر5- خلیل صاحب تحسین صاحب کی رقم اور آدھا (50٪)نفع تحسین صاحب کو دے دیں گے۔
نمبر6- پھر اگر دوبارہ آرڈرآتا ہے تو خلیل صاحب دوبارہ تحسین صاحب سے رقم لیں گے ۔
نمبر7-اس طرح رقم تحسین صاحب کی لگتی رہے گی اور محنت خلیل کی۔
نمبر8- رقم لینے کے بعد مال کو تیار کرنے ڈلیورکرنے اور پارٹی سے اس کی پیمنٹ آنے میں تقریبا تین(3) سے چار(4) ماہ کی مدت لگ جاتی ہے( مال بنانے میں ڈیڑھ 1.5ماہ ، رقم آنےمیں دو ماہ)۔
نمبر9- خلیل صاحب اس بات کے پابند ہیں کہ وہ رقم آتے ہی تحسین صاحب کے حوالہ کریں۔ نمبر10- خلیل صاحب اس بات کی پابند ہیں کہ تحسین صاحب کو مکمل حساب کتاب دیں گے جس میں مندرجہ ذیل چیزیں شامل ہوگی: i-مٹریل پرچیزنگii-پروڈکشنiii-اسمبلینگ iv- پیکنگv -ڈیلیوری vi- اور وغیرہ وغیرہ نمبر11-سرمایہ دار اپنی زکوۃ خود نکالیں گے۔ نمبر12-میں خلیل اس بات کا عہد کرتا ہوں کہ اپنی ذات سے تحسین بھائی کو کوئی دھوکہ نہیں دوں گا۔ اگر اس عاجز (خلیل) سے کوئی خطا ہو گئی ہو تو اس پر معافی چاہتا ہوں۔ کیا یہ معاملہ اس طرح کرنا جائز ہے؟
سوال میں جو معاملہ ذکر کیا گیا ہے شرعاً یہ مضاربت ہے اور اس میں ذکر کردہ شرائط درست ہیں ،لیکن چونکہ خلیل صاحب کا چلتا ہوا کاروبار ہے اور وہ مختلف لوگوں سے مختلف آرڈر لیتے ہیں تو اس بات کا خاص لحاظ رکھا جائے کہ تحسین صاحب سے جس پروڈکٹ کے آرڈر کو بنانے کے لیے رقم لی ہے رقم اسی میں خرچ کرے اور اسی سے حاصل ہونے والے نفع کو باہم تقسیم کریں اور اگر کسی خاص پروڈکٹ کی تیاری کے لیے تحسین صاحب سے رقم لے کر مختلف پروڈکٹس میں نفع کمایا تو شرعاً اس طرح کرنا درست نہیں ہوگا اور اس سے اجتناب لازم ہے۔
تاہم واضح رہے کہ اگر آپ مذکورہ معاملہ کو مسلسل اسی معاہدہ کی بنیاد پر جاری رکھنا چاہتے ہیں تو اس معاہدہ میں اس شق کا اضافہ کرلیا جائے کہ “ہر بار آرڈر کی ڈیلیوری اور رقم کی وصولی پر نفع باہم تقسیم کرکے معاملہ ختم ہوجائے گا اور نئے آرڈر پر دوبارہ معاملہ اسی طرزپر ہوگا اور اگر معاملہ میں تسلسل مقصود نہ ہو تو نفع کی تقسیم کے بعد معاملہ ختم ہوجائے گا اور اگلی بار معاملہ کرنے کی صورت میں فریقین نئے سرے سے معاہدہ کرکے اسی کےمطابق عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔
الفتاوي الهندية(4/311) العلمية
فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر
تبيين الحقائق(5/52)المطبعة الكبرى الأميرية
فإن من الناس من هو صاحب مال ولا يهتدي إلى التصرف ومنهم من هو بالعكس فشرعت لتنتظم مصالحهم فإنه – عليه الصلاة والسلام – بعث والناس يتعاملونها فتركهم عليها وتعاملها الصحابة۔ألا ترى إلى ما يروى أن «عباس بن عبد المطلب كان إذا دفع مالا مضاربة شرط عليه أن لا يسلك به بحرا وأن لا ينزل واديا ولا يشتري ذات كبد رطب فإن فعل ذلك ضمن۔ فبلغ ذلك رسول الله – صلى الله عليه وسلم – فاستحسنه» فصارت مشروعة بالسنة والإجماع وشرطها أن يكون رأس المال من الأثمان وهو معلوم والربح بينهما شائعا ونصيب كل منهما معلوما وأن يكون معينا مسلما إليه فإن فقد شيء من هذه الأشياء فسدت
حاشية الشلبي على تبيين الحقائق(5 / 52)
(كتاب المضاربة) قال – رحمه الله – (هي شركة بمال من جانب وعمل من جانب) يعني : المضاربة عقد شركة بمال من أحد الشريكين وعمل من الآخر هذا في الشرع والمراد بالشركة الشركة في الربح حتى لو شرطا فيها الربح لأحدهما لا تكون مضاربة على ما نبين وقيل : هي عبارة عن دفع المال إلى غيره ليتصرف فيه ويكون الربح بينهما على ما شرطا
الفتاوي الهندية (4/313) العلمية
(ومنها) أن يكون نصيب المضارب من الربح معلوما على وجه لا تنقطع به الشركة في الربح كذا في المحيط. … ولو شرط للمضارب ربح نصف المال أو ربح ثلث المال كانت المضاربة جائزة
تبيين الحقائق(5 / 55)
قال – رحمه الله – (وكل شرط يوجب جهالة الربح يفسدها وإلا لا….الأصل فيه أن كل شرط يوجب جهالة في الربح، أو قطع الشركة فيه مفسد وما لا فلا