بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حکومتی پابندیوں کی وجہ سے حج نہ کرسکا اور آئندہ سال مہنگا ہونے کی وجہ سے استطاعت نہ رہی تو اس کا کیا حکم ہے؟

سوال

ایک شخص نےسن 2020 میں حج کی درخواست دی جو منظور ہو گئی ،عالمی وبا کی وجہ سے حج نہ ہو سکا حکومت نے پیسے واپس کر دیے، جب دوبارہ حج شروع ہوا تو مہنگا ہونے کی وجہ سے اس شخص کی استطاعت میں نہ رہا اب یہ ٓ ادمی کیا کرے؟

جواب

حج

اگر 2020 سے پہلے آپ کے پاس اتنی رقم تھی کہ اس وقت کے خرچ کے لحاظ سے آپ اسی سے حج کر سکتے ہوں، اور آپ کوقانونی طور پر بھی حج کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، تو اس صورت میں آپ پر حج ادا کرنا فرض ہے۔ اور اگر پہلے آپ کے پاس حج کی رقم نہ تھی 2020 میں ہی اتنی رقم آئی، تو اس صورت میں سوال میں ذکر کردہ صورتحال کی وجہ سے آپ پر حج فرض نہیں ہوگا۔
البحر  الرائق (۵۵۲) رشيدية 
إذا كان قادرا وقت خروج إن كانو يخرجون قبل اشهر الحج لبعد المسافة. أو كان قادرا في الشهر الحج إن كانوا يخرجون فيها ، ولم یحج حتى افتقر، تقرر دینا
رد المحتار(۳/522)رشیدیۃ
بخلاف ما لو ملکه مسلماً فلم یحج حتى افتقر حيث يتقرر وجوبه دینافی ذمتہ
البحر الرائق(۲/545) رشیدية 
فلا يجب اداء الحج على مقعد .. والمحبوس والخائف من السلطان الذي يمنع الناس من ا لخروج ا لى الحج ولا يجب عليهم بأنفسهم ولا الإحجاج عنهم إن قدروا على ذلك. هذا ظاهر المذهب عن أبي حنيفة وھو روا  ية عنهما ، وظاهر الرواية عنهما أنه يجب عليهم الإحجاج … وأما القدرة على الزاد والراحلة فالفقهاء على أنه من شرط الوجوب
التاتارخانية(2/325)التراث
شرا ئط وجوب ا لحج :العقل، والبلوغ، والحرية ، والاستطاعة.وتكلموا فى تفسير الاستطاعة ،قال أبو حنيفة في ظاهر الرواية: تفسیرها سلامة البدن وملك الزاد والراحلة، وهو روايةأبي يوسف ومحمد
  فتاوی دینیۃ(۳/۱۴۶)
احسن الفتاوی (۴/۵۲۸)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس