عمرہ کے طواف کے چکروں کی تعداد میں شک ہوجائے تو ازسرنو طواف کرے،البتہ نفلی طواف ہو تو اعادہ ضروری نہیں بلکہ غلبہِ ظن پر عمل کرے ۔اسی طرح اگر سعی کے چکروں میں کچھ شک ہو تو کم کا اعتبار کرکے بقیہ چکر پورے کرے۔(شک اور بھولنے سے بچنے کے لئے تسبیح کے دانوں کا اہتمام کرے یا کسی دوسرے شخص سے اس بارے میں مدد لے)۔
رد المحتار على الدر المختار ،کتاب الحج(2/582)رشیدية
ولو شك في عدد الأشواط في طواف الركن أعاده، ولا يبني على غالب ظنه؛ بخلاف الصلاة وقيل إذا كان يكثر ذلك يتحرى۔۔۔۔ولو اخبرہ عدل بعدد یستحب ان یاخذہ بقولہ،ولو اخبرہ عدلان وجب العمل بقولھما۔۔۔۔لوشک فی اشواط غیر الرکن لایعیدہ،بل یبنی علی غلبۃ ظنہ،لان غیر الفرض علی التوسعۃ،والظاہر ان الواجب فی حکم الرکن،لان فرض عملی۔
غنیۃ(131)
ولو شک فی عدد اشواط السعی اخذباالاقل۔۔۔۔لو اخبرہ ببقاء شیئ ثقۃ وشک فی صدقہ یستحب الاخذ بقولہ،وثنتان وشک فی صدقھما وجب الاخذ بقولھما۔