بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جنازے کی مشروعیت کب ہوئی اور آپﷺ کے فرزند حضرت ابراہیم کی وفات کس سن میں ہوئی اور جنازہ کس نے پڑھایا

سوال

آپ ﷺکی امت میں جنازے کی مشروعیت کون سےسال میں ہوئی،نیز آپ کے فرزند ارجمند حضرت ابراہیم کی وفات کون سےسال میں ہوئی ،اور ان کا جنازہ کس نے پڑھایا؟

جواب

حضرت ابراہیم

جنازے کی مشروعیت مدینہ منورہ میں سن ایک ہجری میں ہوئی ،اورآپ ﷺ کے فرزند ارجمند حضرت ابراہیم (رضی اللہ عنہ )کی وفات سن دس ہجری میں مدینہ میں ہوئی ،اس وقت ان کی عمر اٹھارہ ماہ تھی ،آپ ﷺ نے ان کا جنازہ خود پڑھایا۔
أوجزالمسالک (2/421)امدادیة
شرعت صلاةالجنازة بالمدينة المنورة في السنة الأولى من الهجرة فمن مات بمكة المشرفة لم یصل عليه
سنن ابن ماجہ (1/283)رسالۃالناشرون
عن ابن عباس قال :لما مات إبراہیم ابن رسول اللہ ﷺ،صلی علیہ رسول اللہ ﷺ،وقال:إن لہ مرضعا فی الجنۃ،ولو عاش لکان صدیقا نبیا،ولو عاش لعتقت أخوالہ  القبط
وفي حاشیتہ لفخر الدين المحدث الكنكوهى
لما مات إبراھیم ابن رسول اللہ ﷺ،أي في سنۃ عشر، وھو ابن ثمانیۃعشر شھرا
المواھب اللدنیۃ(1/400  )العلمیۃ
عن ابن عباس قال :لما مات إبراہیم بن رسول اللہ ﷺ،صلی علیہ رسول اللہ ُﷺ،وقال:إن لہ مرضعا في الجنۃ، ولو عاش لکان صدیقا نبیا، ولو عاش لعتقت أخوالہ القبط، وما استرق قبطی
 سیرۃالنبی(1-2 /649 )دارالاشاعت
سبل الھدی (11/22) نعمانیۃ
 فتاوی محمودیۃ(8/544)جامعہ فاروقیہ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس