میں انگلینڈمیں رہتاہوں اوروہاں مسجدمیں جمعہ کابیان اورخطبہ انگریزی میں دیاجاتاہے،پھرجب خطیب ِمسجدسےکہاگیاکہ خطبہ عربی میں دیاکرو،اس پروہ بولےکہ لوگ عربی نہیں سمجھتے،بلکہ انگریزی سمجھتےہیں ۔ آیا اس صورت میں جمعہ کاخطبہ اداہوجائےگانیزاس بات کی بھی وضاحت فرمائیں کہ اس مسجدمیں نمازِجمعہ اداہو جائے گی اورسامعین سےخطبہ کی سماع کی وجوبیت ساقط ہوجائےگی یانہیں؟
جمعہ اورعیدین کے خطبہ کے بارے میں سنت یہ ہے کہ عربی زبان میں دیاجائے، غیرعربی زبان میں خطبہ دیناناجائز، مکروہِ تحریمی اور بدعت ہے ، لہٰذا انگریزی زبان میں خطبہ دینے والےخطیب صاحب کوحکمت اور نرمی سے آمادہ کرنا چاہیئے کہ وہ خطبہ عربی میں ہی دیاکریں اور لوگوں کو احکامِ شریعت سمجھانے کے لئےدوسری اذان سے قبل انگریزی زبان میں بیان کرلیاکریں لیکن اگر وہ آمادہ نہ ہوں توایسی مسجد میں جاکر نماز اداکیاکریں جہاں خطبہ عربی زبان میں ہوتاہے اوراگرکوئی ایسی مسجد بھی مہیانہ ہوجہاں خطبہ عربی زبان میں ہو تو جن سامعین کو انگریزی خطبہ والی مسجد میں کوئی انتظامی اختیار نہ ہوان کے حق میں اللہ کی ذات سے امید ہے کہ کراہت نہیں رہے گی اور ان کی نمازِ جمعہ اداہوجائے گی ۔
الدر المختار،العلامة علاء الدين الحصكفي (1/483)سعيد:باب صفة الصلاة
(وصح شروعه) أيضا مع كراهة التحريم (بتسبيح وتهليل)… (كما صح لو شرع بغير عربية) أي لسان كان، وخصه البردعي بالفارسية لمزيتها بحديث «لسان أهل الجنة العربية والفارسية الدرية» بتشديد الراء قهستاني وشرطا عجزه، وعلى هذا الخلاف الخطبة وجميع أذكار الصلاة
البحرالرائق، العلامة ابن نجيم المصري(م: 970هـ)(1/323)دارالكتاب الإسلامي
فعلى هذا ما ذكره في التحفة والذخيرة والنهاية من أن الأصح أنه يكره الافتتاح بغير الله أكبر عند أبي حنيفة فالمراد كراهة التحريم؛ لأنها في رتبة الواجب من جهة الترك فعلى هذا يضعف ما صححه السرخسي من أن الأصح أنه لا يكره
مجموعة رسائل اللکنوی،الشیخ محمدعبدالحیی(م:1464)(4/380)ادارة القران والعلوم الاسلامیة
وتحقیقه أن فی الخطبة جهتین: الأولی: کونها شرطا لصلاة الجمعة والثانیة کونها فی نفسها عبادةولکل منها وصف علی حدة فمعنی قولهم یجوز الخطبة بالفارسیة أنها تکفی لتادیة الشرط وصحة صلاة الجمعة وهو لایستلزم أن یخلو من البدعیةوالکراهیة من حیث الجهة الثانیة