بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جدہ پہنچ کر مدینہ جانے کا ارادہ ترک کر کے مسجدِ عائشہ سے عمرے کا احرام باندھ نے پر دم کا حکم

سوال

ایک شخص نے حرمین جاتے ہوئے طبیعت کی حساسیت کی وجہ سے یہ ارادہ کیا کہ جدہ پہنچ کر پہلے مدینہ منورہ جاؤں گا پھر مکہ مکرمہ، لیکن جدہ پہنچ کر طبیعت میں بہتری آنے کی وجہ سے مسجد عائشہ سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ گیا اور عمرہ ادا کیا۔ کیا اس صورت میں اس پر کوئی دم تو لازم نہیں ہوا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر جدہ پہنچنے سے پہلے مکہ کا ارادہ نہیں تھا ۔ بلکہ جدہ پہنچنے کے بعد حرم جانے کا ارادہ کیا تو اس صورت میں کوئی دم لازم نہیں ہوگا۔
الدر المختار (3/ 551) رشيدية
(وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك
 جواھر الفقہ(34/4) دارالعلوم کراچی
“هى المواضع التى لا يجوز ان يتجاوزها الى مكة والحرم ولو لحاجة الا محرما”
اس سے بھی معلوم ہوا کہ بلا احرام تجاوز ممنوع وہ ہے جو تجاوز الی الحرم ہو،دوسری کسی جہت کی طرف تجاوز ممنوع نہیں۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس