مرغیوں کےچھوٹےچھوٹےبچےخریدکرپالنےکےلئےکسی ایسےشخص کودیئےجاتےہیں جوان کی صحیح دیکھ بھال کرے، جب وہ بڑےہوجاتےہیں تووہ اصل مالک اوررکھوالی کرنےوالےکےدرمیان نصف نصف تقسیم کرلئےجاتےہیں ۔اوریہ ہی طریقہ گائےاوربکریوں میں بھی ہوتاہےکہ ایک بکری یاگائےکی بچی کسی کوچند سال دیکھ بھال کےلئےحوالےکردی جاتی ہےاورپھر وہ اوراس کی نسل اصل مالک اوردیکھ بھال کرنےوالےکے درمیان تقسیم کی جاتی ہیں ۔
سوال میں ذکرکردہ دونوں صورتیں شرعاً ناجائزہیں،کیونکہ یہ اجارہ فاسدہ ہے اوراس طرح کرنے سے شرکت ثابت نہیں ہوتی۔ لہٰذا اگرکسی نے اس طرح معاملہ کرلیاہوتواسے فسخ کرناضروری ہے اورایسی صورت میں جانور،مرغیاں اوران کے کل منافع مالک کی ملکیت ہونگے اورعامل(رکھوالی کرنے والا) صرف اجرتِ مثل اوراپنی ملکیت سے اداکردہ چارے کے خرچہ کاحقدار ہوگا البتہ اس معاملہ کودرست کرنے کے لئے درج ذیل دوصورتوں میں سے کسی صورت کواختیارکیاجاسکتاہے
الف۔ مالک اپنےجانوروں یامرغیوں کا آدھایاکم وبیش حصہ عامل کو فروخت کردے اورپھرقیمت اس کو معاف کردے تواس طرح کرنے سے وہ جانوراورمرغیاں ان کے درمیان مشترک ہوجائیں گی، ان سے حاصل ہونے والے منافع دودھ، نسل وغیرہ میں دونوں شریک ہوں گے، تاہم اس صورت میں عامل جب خدمت سے انکارکرناچاہے کرسکتاہے اوراپنی خوشی سے کرتارہے توجائز ہے اسی طرح وہ اگر کسی وقت چارے کانصف خرچہ مالک سے وصول کرناچاہے توکرسکتاہے۔(ملاحظہ فرمائیں: فتاویٰ عثمانی،۳/۳۸۲، ط:مکتبہ دارالعلوم وامدادالفتاویٰ، ۳/۳۴۳،ط: مکتبہ دارالعلوم)
ب۔اجارہ یاشرکت کامعاملہ کرنے کی بجائے عقدِ مضاربت کا معاملہ کرلیا جائے کہ ایک شخص دوسرے کو جانور دینے کی بجائے نقدرقم دیدےاورباہمی یہ معاہدہ کرلیں کہ مضارب اس رقم سےجانوریا مرغیاں خرید کر اتنی مدت تک ان کی دیکھ بھال کرےان کوچرانے کی ضرورت پڑے توچراکرلائےالبتہ چارہ کھلانے کی صورت میں چارہ کا خرچہ مضاربت کے سرمایہ میں سے اداکیاجائیگا، مدت مکمل ہونے کے بعد اولاًرب المال اپنا راس المال وصول کرےپھر بقیہ مال (نفع)باہمی طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کرلیاجائے، اس صورت میں عاقدین چاہیں توجانوروں کوہی باہمی تقسیم کرلیں یاپھران کوفروخت کرکے ان کی قیمت تقسیم کرلیں۔
الفتاوى الهندية (4 /446،445 )دار الفكر
دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما۔
الفتاوى الهندية (4 / 446 )دار الفكر
والحيلة في جنس هذه المسائل أن يبيع صاحب البيضة نصف البيضة وصاحب الدجاجة نصف الدجاجة من المدفوع إليه ويبرئه عن ثمن ما اشترى فيكون الخارج بينهما. كذا في المحيط۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي(م: 188هـ)(5 / 69 )سعيد
[فرع] إنما تجوز الشركة في القز إذا كان البيض منهما والعمل منهما وهو بينهما أنصافا لا أثلاثا، فلو دفع بزر القز أو بقرة أو دجاجا لآخر بالعلف مناصفة فالخارج كله للمالك لحدوثه من ملكه وعليه قيمة العلف وأجر مثل العامل عيني ملخصا، ومثله دفع البيض كما لا يخفى فقط۔