بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تیسری رکعت کے بعد اٹھنے کی بجائے بیٹھ جانے کا حکم

سوال

ایک دفعہ امام صاحب تیسر ی رکعت کے بعد( چار رکعت والی نماز میں )بیٹھ گئے تھے اور سجدہ سہو ادا کرنا بھول گئے تھے ۔کیا  سجدہ سہو واجب تھا اگر نہ کرنے کی صورت میں نماز واجب الاعادہ تھی اور وہ لوٹائی جارہی تھی کہ لوٹائی جانے والی نماز میں نئے نماز ی آکر شریک ہوگئے تھےتو نئے نمازی کے شریک ہونے کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

تیسری رکعت کے بعد تین بار “سبحان اللہ  ربی الاعلی ” کی مقدار بیٹھنے سے سجدہ سہو واجب ہوجاتاہے تاخیر قیام کی وجہ سے؛لہذا سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ ہوگی اور واجب الاعادہ نمازمیں نئے آدمی کا شریک ہونا صحیح نہیں، اس شخص کو نماز لوٹانی چاہیے کیونکہ امام کے ذمہ سے فرض پہلی نماز کی وجہ سے ساقط ہوگیا اور اعادہ جبر ِنقصان کی وجہ سے واجب ہے؛ لہٰذا  ابتداءً فرض پڑھنے والے کو اس کی اقتداءصحیح نہیں ۔
:کما فی منحۃ الخالق علی البحرالرائق،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (1/474)رشیدیۃ
أی بسنتہ کما قیدہ فی المنیۃ ۔۔۔۔جزم البرھان إبراہیم الحلبی فی شرح المنیۃ حیث قال وذلک مقدار ثلاث تسلیمات فأفاد أن المراد قصر رکن وکأنہ لأنہ الأحوط. واللہ اعلم ۔
:وفی رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(1/ 469)ایچ۔ایم۔سعید
فی واجبات الصلوٰۃ ۔۔۔۔ وكذا  القعدة في آخر الركعة الأولى أو الثالثة فيجب تركها، ويلزم من فعلها أيضا تأخير القيام إلى الثانية أو الرابعة عن محله،  وهذا إذا كانت القعدة طويلة۔
:وفی حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح،محمد بن إسماعيل الطحطاوي(م:1231)(ص: 248)رشيدية
والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى لأن الفرض لا يتكرر كما في الدر وغيره۔
:وفی حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح  ،محمد بن اسماعيل الطحطاوي(م:1231)(ص: 462)رشيدية
وجب عليه إعادة الصلاة تغليظا عليه لجبر نقصانها فتكون مكملة وسقط الفرض بالأولى.۔
:  الدر المختار ،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ) (1/ 456) سعید
(ولها واجبات) لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا آثما وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها. والمختار أنه جابر للأولَ۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس