بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تراویح میں قرآن سنانے کی اجرت

سوال

حفاظ کرام تراویح میں قرآن شریف سنانےکے بعد جو پیسے لیتے ہیں آیا ان کا یہ فعل صحیح ہے یا نہیں؟ اور جو حفاظ کرام تاویلات نکا لتے ہیں ان کی تاویلا ت کا اعتبار کیا جائےگا یا نہیں ؟
تاویلات یہ کر تے ہیں کہ مسجد والے عیدی کے طور پر دیتے ہیں اور عقلی طور پر دلیل دیتےہیں کہ ہم اپنے وقت کا پیسہ لیتے ہیں ۔

جواب

رمضان شریف میں تراویح میں قرآن کریم سنانے پر اُجرت لینا جائز نہیں (چاہے عیدی کے عنوان سے ہو یاکسی اورنام سے) اور اسی طرح اس کے لئے چندہ کرنا بھی جائز نہیں ، البتہ اگر کسی علاقے میں اُجرت دینے کارواج نہ ہواور چندہ بھی نہ کیاجائے اور کوئی شخص اپنی خوشی سے کچھ ہدیہ دے دے تووہ لینے کی گنجائش ہے کیونکہ وہ اجرت نہیں بلکہ ہدیہ ہے لیکن اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ دینے والاختمِ قرآن کے موقع پر نہ دے بلکہ کسی اور موقع پر دے دے۔
واضح رہے کہ یہ تاویل کہ ” ہم وقت کے پیسے لیتے ہیں “درست نہیں کیونکہ یہ بھی اُجرت ہی کی ایک صورت ہے جبکہ قرآنِ کریم سنانے کو فقہاء نے ان امور میں شمار نہیں کیاہے جن پراُجرت لیناجائز ہے ۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي الحنفي(م: 1088ھ)(6/ 55)سعید 
(لا تصح الإجارة لعسب التيس)(و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقہ) ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان۔۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(6/ 56)دارالفكر
وقد اتفقت كلمتهم جميعا على التصريح بأصل المذهب من عدم الجواز، ثم استثنوا بعده ما علمته، فهذا دليل قاطع وبرهان ساطع على أن المفتى به ليس هو جواز الاستئجار على كل طاعة بل على ما ذكروه فقط مما فيه ضرورة ظاهرة تبيح الخروج عن أصل المذهب من طرو المنع… قال تاج الشريعة في شرح الهداية: إن القرآن بالأجرة لا يستحق الثواب لا للميت ولا للقارئ. وقال العيني في شرح الهداية: ويمنع القارئ للدنيا، والآخذ والمعطي آثمان۔
الأشباه والنظائر،العلامة ابن نجيم المصري(م: 970ھ)(1/84)دارالكتب العلمية
المبحث الثالث: العادة المطردة هل تنزل منزلة الشرط؟ قال في إجارة الظهيرية: المعروف عرفا كالمشروط شرعا(انتهی)… قالوا: المعروف كالمشروط، فعلى المفتى به صارت عادته كالمشروط صريحا (والتفصیل فی امداد المفتین 313 تا 315)
 امداد المفتیین مفتی محمد شفیعؒ (ص:313) دارالاشاعت
تراویح میں ختم قرآن پراجرت مقررکرلیناخواہ صراحۃً ہو جیساکہ بعض لوگ کرتےہیں یابطورعرف وعادت ہوجیساکہ عمومًا آج کل رائج ہے۔دونوں صورتوں میں جائزنہیں اورتحقیق اس معاملہ کی یہ ہےکہ اصل مذہب میں مطلقاعبادت پراجرت لیناجائز نہیں ہےخواہ کوئی عبادت ہولیکن حضرات متاخرین نےضرورت کی وجہ سےاس قاعدہ کلیہ سےچندچیزیں استثناء کی ہیں اوریہ استثناء انہیں چیزوں میں ہے۔باقی عبادات واطاعات اپنےاصلی حکم پرہیں کہ ان میں اجرت لیناجائز نہ ہوگا۔اور ان مستثنیات میں ختم قرآن درتراویح کوکسی نےشامل نہیں فرمایا۔اس لئے اس پراجرت لینااسی طرح ناجائز رہےگا۔۔۔۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس