اگر کوئی عورت خود بھی صاحب نصاب ہو اور اس کا شوہر بھی مالدار صاحب نصاب ہو اور اس کے شوہر کے انتقال کے بعد اس کے مال میں سے ربع مال تو اس کی بیوی کو ملے گا باقی مال کس کو ملے گا کیونکہ دونوں کے اصول و فروع نہیں ہیں نہ شوہر کے بہن بھائی ہیں ۔
وضاحت:سائل سے زبانی استفسار سے معلوم ہوا کہ مرحوم کے والد کے چچا کی مذکر مؤنث دونوں قسم کی اولاد موجود ہیں ۔
دوسرا مسئلہ یہ کہ جمعہ کے لئے کیا شرائط ہیں اور امام شافعی ؒ کے قول پر عمل کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور جہاں جمعہ نہ ادا ہوتا ہو وہاں عیدین ادا کر نے کا کیا حکم ہے ؟ آیا اس طرح کرنا درست ہے یا نہیں؟
پہلا مسئلہ: مذکورہ صورت میں مرحوم شوہر کے ترکے میں سے بیوی کو ربع ملنے کے بعد بقیہ مال مرحوم کے والد کی چچا زاد اولاد کو بطورِ عصبہ کے ملے گا۔
دوسرا مسئلہ: اصلاً گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں اور شہر و قصبات میں صحیح ہے اور قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں چار ہزار سے زائدیا اس کے قریب آبادی ہو اور ایسا بازار ہوجس میں چالیس پچاس متصل دکانیں ہوں اور بازار روز لگتا بھی ہو نیز اس بازار میں روز مرہ کی ضروریات بھی ملتی ہوں مثلا : جوتوں کپڑوں کی بھی دکان ہو اور دودھ گھی کی بھی دکانیں ہوں ،معمار ،ڈاکٹر یا حکیم بھی ہواس کے علاوہ ڈاکخانہ ،پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو اور اس میں مختلف ناموں سے موسوم محلے بھی ہوں ۔
اسی طرح وہ مضافاتی دیہات اور گاؤں جو شہری حدود کے ساتھ اس طرح متصل ہوں کہ ان دونوں کے درمیان کوئی زمین کا خالی قطعہ (غیر تعمیر شدہ حصہ)کھیتیاں، چراگاہیں یا صحرا حائل نہ ہو ،بلکہ مسلسل یا قریب قریب آبادی ،گھر یا سبزہ زار ہوں اور وہاں کے عرف میں اسے شہر کے تابع سمجھا جاتا ہو ،وہاں الگ سے بازار ہو یا وہاں کے باشندے اپنی ضروریاتِ زندگی اسی شہر کے بازار سے پوری کرتے ہوں تو ایسے علاقے بھی شہر کے حکم میں ہوں گے اور وہاں جمعہ جائز ہوگا ۔تاہم اگر ایسا نہ ہو ( یعنی متصل اور تابع نہ ہوں ) تو جمعہ کا قیام درست نہ ہوگا ۔اور جو شرائط جمعہ کی ہیں وہی عیدین کی بھی ہیں ۔
اس وضاحتی تمہید اور اصولی جواب کے بعد بہتر یہ ہے کہ اس سلسلے میں آپ اپنے مقام کے مستند علماء کرام کو جمع کر کے مشورہ کریں اور ان حضرات کے سامنے یہ سوال و جواب بھی پیش کریں پھر وہ حضرات اس جگہ کا مشاہدہ کر کے اس کے متعلق جو فیصلہ کریں اس پر سب کو عمل کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ عمومی حالات میں امام شافعیؒ کے قول پر عمل کرنا درست نہیں ۔
مصنف ابن أبي شيبة (كتاب الجمعة ،باب من قال لا جمعة)
عن أبي عبد الرحمن، قال: قال علي: «لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر ولا أضحى، إلا في مصر جامع، أو مدينة عظيمة»۔
الفتاوى الهندية (6/ 451) دار الفكر
وباقي العصبات ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم وهم أربعة أيضا: العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق، كذا في خزانة المفتين۔
المحيط البرهاني (2/ 66) دار الكتب العلمية
قال شمس الأئمة السرخسي رحمه الله: وظاهر المذهب أن المصر الجامع أن يكون فيه جماعات الناس، وجامع وأسواق للتجارات وسلطان أو قاضي يقيم الحدود، وينفذ الأحكام، ويكون فيه مفتي إذا لم يكن الوالي أو السلطان مفتياً۔
الفتاوى الهندية (1/ 145) دار الفكر
(ولأدائها شرائط في غير المصلي) . منها المصر هكذا في الكافي، والمصر في ظاهر الرواية الموضع الذي يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى، هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خانوفي الخلاصة وعليه الاعتماد، كذا في التتارخانية ومعنى إقامة الحدود القدرة عليها، هكذا في الغياثية وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر ومن كان مقيما بموضع بينه وبين المصر فرجة من المزارع والمراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع وإن كان النداء يبلغهم والغلوة والميل والأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة هكذا روى الفقيه أبو جعفر عن أبي حنيفة وأبي يوسف – رحمهما الله تعالى – وهو اختيار شمس الأئمة الحلواني، كذا في فتاوى قاضي خان القروي إذا دخل المصر ونوى أن يمكث يوم الجمعة لزمته الجمعة؛ لأنه صار كواحد من أهل المصر في حق هذا اليوم وإن نوى أن يخرج في يومه ذلك قبل دخول الوقت أو بعد الدخول لا جمعة عليه ولو صلى مع ذلك كان مأجورا، كذا في فتاوى قاضي خان والتجنيس والمحيط۔
الدر المختار (2/ 166) دار الفكر
(تجب صلاتهما) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها۔
اصول الافتاء وآدابه (ص،244)معارف القرآن
لافتاء بمذهب آخر لضرورة او حاجة عامة ۔وذلك ان يكون في المذهب في مسئلة مخصوصة حرج شديد لايطاق ،او حاجة واقعية لا محيص عنها ،فيجوز ان يعمل بمذهب آخر دفعا للحرج وانجازا للحاجة۔