بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بہرے کو لقمہ دینے کا طریقہ

سوال

فتاوی محمودیہ اور کتاب النوازل میں یہ تصریح موجود ہے کہ:بہرے شخص کی امامت شرعاً درست تو ہے ،مگر لقمہ دینے میں دقت کے باعث اس سے امام بنانا بہتر نہیں ہے ،اب اگر کسی موقع پر ایسا بہرا شخض امامت کے منصب پر فائز ہو جائے ،اور نماز میں قراءت کی غلطی یا کوئی اور ایسا سہو پیش آجائے جس پر لقمہ دینا ضروری ہو ،تو کیا اس صورت میں لقمہ دینا صرف زبان سے کافی ہوگا، یا کوئی اور طریقہ مثلاً جسمانی اشارہ یا قدموں کی حرکت اختیار کی جائے؟

جواب

بہرے کو لقمہ دینا

تندرست آدمی کی موجودگی میں بہرے شخض کو امام نہ بنایا جائے ،لیکن اگر بہرے کے علاوہ امامت کے لائق کوئی تندرست آدمی موجود نہ ہو تو بہرے کو امام بنانا درست ہے ، اور امام بنانے کی صورت میں اگربہرےامام سے کوئی ایسی غلطی ہوجاتی ہےجس سے نماز میں فساد نہ آتا ہو تو ایسی صورت میں لقمہ نہ دیا جائے ،ہاں اگر کوئی ایسی غلطی ہو جاتی ہے جس سے نماز فاسد ہو جانے کا خطرہ ہو تو اشارے سےلقمہ دینے میں ایسی کوئی بھی صورت اختیار کی جاسکتی ہےجس میں عمل کثیر نہ ہو ورنہ وہ عمل مفسد صلاۃ ہوگا۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص: 322)رشیدیۃ:
العمل الكثير” لا القليل والفاصل بينهما أن الكثير هو الذي لا يشك الناظر لفاعله أنه ليس في الصلاة وإن اشتبه فهو قليل.
المغني لابن قدامة (2/430)بیروت:
وتصح إمامة الأصم؛ لأنه لا يخل بشيء من أفعال الصلاة، ولا شروطها، فأشبه الاعمیٰ ؛فان كان أصم أعمى صحت إمامته لذلك. وقال بعض أصحابنا: لا تصح إمامته؛ لأنه إذا سها لا يمكن تنبيهه بتسبيح ولا إشارة، والأولى صحتها؛ فإنه لا يمنع من صحة الصلاة احتمال عارض لا يتيقن وجوده.
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس