بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بھینس ٹھیکہ پردینا اور اس میں مشارکت کرنا

سوال

نمبر ۱۔زیدبکرکو(25)بھینسیں ٹھیکہ پردیناچاہتاہے، اس کی کیاصورت ہوسکتی ہے؟جبکہ دکھ بیماری اور چارہ وغیرہ کاخرچہ بکر کےذمہ ہو۔
نمبر ۲۔بکرنےشراکت کی بنیادپردس لاکھ روپےزیدسےلیےاوران پیسوں کی دس بھینسیں خریدلی جبکہ دس بھینسیں پہلےسےبکرکےپاس موجود تھیں۔ اب منافع کو یوں تقسیم کیاکہ پچاس فیصدبکرکےاورپچاس فیصدزید کےہوں گے۔کیایہ صورت جائزہےیانہیں ؟
نمبر ۳۔ کچھ عرصہ کےبعدزید نےکہاکہ میرےپیسےواپس کریں تواب وہی دس لاکھ روپےواپس کرنے پڑیں گےیاپھربھینسوں کی مروجہ قیمت؟
نمبر ۴۔بکراورزیدکی دس بھینسیں مشترکہ ہیں لیکن نفع طےنہیں ہوا،بکرزید کواندازہ سےرقم دیتارہاہے،یہ صورت جائزہےیانہیں اگرجائزنہیں توازالےکی کیاصورت بنےگی؟واضح رہےکہ مذکورہ صورتوں میں کاروباراورمنافع سےمرادبھینسوں کےدودھ کوفروخت کرکےان سےمنافع حاصل کرناہے۔ سوال نمبر4 میں شرکت کی صورت یہ پیش آئی کہ پانچ بھینس بکرکی تھی اورپانچ زیدکی ،دونوں نےاپنی بھینسوں کواکٹھاکرکےان میں شرکت قائم کرلی کہ منافع میں ہم شریک ہوں گے۔

جواب

نمبر ۱۔زید اوربکرکےدرمیان منعقد ہونے والے اس معاملہ کودرست کرنے کے لئے درج ذیل دوصورتوں میں سے کسی صورت کواختیارکیاجاسکتاہے 
پہلی صورت یہ ہے کہ زیدبکرکوبھینسوں کی رکھوالی اوران کادودھ دوہ کرفروخت کرنے کاملازم مقرر کرلے اوراس کے لئے باہمی رضامندی سے مزدوری مقررکرلے،اس صورت میں بھینسیں زیدکی ملکیت میں رہیں گی اورنفع  بھی ساراکاسارا زیدکاہوگااسی طرح بھینسوں کی رکھوالی کاساراخرچہ بھی اسی (زید)کے ذمہ ہوگا،بکرصرف اپنی مزدوری کاحقدارہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ زیدبکرکواپنی بھینسوں کانصف حصہ فروخت کردے اورپھراس کی قیمت بکرکو معاف کردےاوربکرسے کہے کہ تم ان کی پرورش کرو، ان کے دودھ سے جونفع حاصل ہوگاوہ ہمارے درمیان آدھا آدھاہوگا،تاہم اس صورت میں بکر زیدسے کسی وقت چارے کانصف خرچہ وصول کرناچاہے توکرسکتاہے۔
نمبر ۲۔یہ معاملہ درست ہے اوراس میں بکر کے پاس موجود بھینسوں کی عقدکےوقت جوبازاری قیمت ہوگی وہی اس کی جانب سے عقدِ شرکت کاسرمایہ سمجھاجائیگا۔ نیزاس معاملہ میں شرکت اورمضاربت دونوں جمع ہیں ایسی صورت میں فریقین آپس میں نفع کاکوئی بھی تناسب طے کرسکتے ہیں،شرط صرف یہ ہے کہ کام نہ کرنے والے شریک (زید)کےلئے اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نفع طے نہیں کیاجاسکتا؛  لہٰذا مسئولہ صورت میں فریقین آدھاآدھا نفع طے کرسکتے بشرطیکہ غیرعامل شریک(زید) کاسرمایہ کل سرمائے کا کم ازکم آدھاہوجبکہ عامل شریک(بکر) کاحصہ ٔ نفع اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ مقررکرنے میں یا اس کے لئے اس  کے عمل کی اجرتِ مثل مقررکرنے میں کوئی حرج نہیں۔
نمبر ۳۔مشارکہ کے دوفریقوں میں سے ایک فریق (یعنی زید)کی جانب سے اس معاملہ کوختم کرنے کامطالبہ آجانے کی صورت میں بکرزیدکودس لاکھ روپے واپس نہیں کرے گا، بلکہ باہمی رضامندی سے یاتوبکر زیدکو کل بھینسوں میں سے آدھی بھینسیں دیدےیاآدھی بھینسوں کی قیمت دےدے۔
نمبر ۴۔مشارکہ کے درست ہونے کے لئےمعاہدہ کے نافذالعمل ہونےکےوقت  فریقین میں سے ہرایک کے لئے شرح نفع کاطے ہوجانا ضروری ہے،اگراس طرح شرح نفع طے نہ کی گئی توشرعاًیہ عقددرست نہیں ہوگا،اس  لئے ضروری ہے کہ فریقین اس معاملہ کوفوری طورپر فسخ کرکے نیامعاملہ کریں جس میں فریقین کے لئے شرح نفع طےکی جائےاوراس میں اس بات کاخیال رکھاجائے کہ شریک غیرعامل کاحصہ نفع کاروبارمیں اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نہ ہواوراب تک جونفع حاصل ہوافریقین اپنے  اپنے حصۂ سرمایہ کے تناسب سے اس میں حقدارہیں۔

الفتاوى الهندية (4 / 445) دار الفكر  
دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما  سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع  حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما۔
بدائع الصنائع، علاء الدين الكاساني (م: 587هـ)(6 / 63 ) دار الكتب العلمية
وإن شرطا العمل على أحدهما فإن شرطاه على الذي رأس ماله أقل ؛ جاز ، ويستحق قدر ربح ماله بماله والفضل بعمله ، وإن شرطاه على صاحب الأكثر لم يجز ؛ لأن زيادة الربح في حق صاحب الأقل لا يقابلها مال ولا عمل ولا ضمان۔
بدائع الصنائع، علاء الدين الكاساني (م: 587هـ) (6 / 59 ) دار الكتب العلمية
(ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة
بدائع الصنائع ،علاء الدين الكاساني(م: 587هـ)(6 / 77 ) دار الكتب العلمية
(وأما) الشركة الفاسدة وهي التي فاتها شرط من شرائط الصحة، فلا تفيد شيئا مما ذكرنا؛ لأن لأحد الشريكين أن يعمله بالشركة الصحيحة، والربح فيها على قدر المالين؛ لأنه لا يجوز أن يكون الاستحقاق فيها بالشرط؛ لأن الشرط لم يصح، فألحق بالعدم، فبقي الاستحقاق بالمال، فيقدر بقدر المال، ولا أجر لأحدهما على صاحبه عندنا وقال الشافعي: له أجرة فيما عمل لصاحبه، وهذا غير سديد، فقط۔
   المبسوط، شمس الأئمة السرخسي(م: 483هـ) (15/ 160) دار المعرفة
وإذا استأجر راعيا يرعى له غنما معلوما مدة معلومة فهو جائز… فإن مات منها شاة لم يضمنها؛ لأنه أمين فيما في يده من الغنم ولا ينقص من أجره بحسابها۔
مجمع الضمانات، أبو محمد غانم بن محمد الحنفي(م: 1030هـ)(ص: 33) دار الكتاب الإسلامي
وفي الخلاصة رجل دفع بقرة إلى رجل بالعلف مناصفة وهي التي تسمى بالفارسية كاونيم سوو بأن دفع على أن ما يحصل من اللبن والسمن بينهما نصفان فهذا فاسد والحادث كله لصاحب البقرة والإجارة فاسدة ولو أكل اللبن مع هذا والبعض قائم فما كان قائما يرد على مالك البقرة ويرد مثل ما أكل من اللبن والمصل للذي فعل وله على المالك قيمة علفها وأجر المثل في قيامه عليها۔
 مجلة الأحكام العدلية(ص: 257)كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي
المادة (1342) لا يصح عقد الشركة على الأموال التي ليست معدودة من النقود كالعروض والعقار , أي لا يجوز أن تكون هذه رأس مال للشركة , ولكن إذا أراد اثنان اتخاذ أموالهما التي لم تكن من قبيل النقود رأس مال للشركة فبعد أن يحصل اشتراكهما ببيع كل واحد منهما نصف ماله للآخر فلهما عقد الشركة على مالهما المشترك هذا , وكذلك لو خلط اثنان مالهما الذي هو من المثليات ومن نوع واحد كمقدارين من الحنطة مثلا ببعضه فحصلت شركة الملك فلهما أن يتخذا هذا المال المخلوط رأس مال للشركة ويعقدا عليه الشركة۔
 المحيط البرهاني،برهان الدين محمود بن أحمد(م: 616هـ)(7/ 333)دارالكتب العلمية
الفصل الأول: في بيان ماهية القسمة: فنقول: القسمة نوعان: قسمة في ذوات الأمثال كالمكيلات والموزونات والعدديات المتقاومة. وقسمة في غير ذوات الأمثال من العدديات المتقاومة كالنبات والأغنام. فالقسمة في ذوات الأمثال إفراز وقبض لعين الحق حكماً، مبايعة من حيث الحقيقة من وجه؛ لأن ما قبضه كل واحد منهما نصف ملكه من الأصل حقيقة، ونصفه ملك صاحبه صار له من جهة صاحبه بالقسمة. (اسلام اورجدیدمعاشی مسائل : حضرت مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم ۵/ ۳۸)۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس