والد کے فوت ہونے کےبعد اولاد یا خاوند کے فوت ہو نے کے بعد بیوی یہ چاہتی ہے کہ ہم اپنے مرحوم کی طرف سے قضاء نمازوں کا فدیہ ادا کریں اور اس کی طرف سے حج بدل بھی کرلیں ۔اب دریا فت طلب امریہ ہے کہ
نمبر۱۔قضاء نمازوں کے فدیہ کی مقدار کیا ہے ؟
نمبر۲۔ جمعہ ، وتر بھی قضاء نمازوں میں شامل کئے جائیں گے یا نہیں؟
نمبر1- صورت ِ مسئولہ میں جب مرحوم نے نمازوں کے فدیہ اور حج کی وصیت نہیں کی ہے توان کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ادا کرنا يا ان كی طرف سے حجِ بدل کروانا واجب نہیں، البتہ اگر كوئی وارث اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے ذاتی مال میں سے، یا اگر تمام ورثاء عاقل و بالغ ہوں تو سب باہمی رضامندی سے مشترکہ ترکہ سے مرحوم کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ اداكرناچاہیں توکرسكتے ہیں اور مرحوم كی جانب سے حجِ بدل كرواسکتے ہیں۔ امید ہے کہ اللہ تعالی اس فدیہ اورحج بدل کو قبول فرمالیں گےاورمرحوم کے ذمہ قضاء نمازوں اورحج کی ذمہ داری ختم ہوجائے گی۔
نمازوں کے فدیہ کی مقدار یہ ہے کہ ہر فرض اور واجب نماز کے بدلے میں پونے دو کلو خالص گندم یا اس کی قیمت دیدیں ، احتیاطاً دو کلو گندم یا اس کی قیمت دیدیں تو زیادہ بہتر ہے۔
نمبر2- فوت شدہ نمازِ جمعہ اور وترکے بدلہ میں بھی فدیہ اداکیاجائے گابشرطیکہ جمعہ فوت ہونے کی صورت میں نمازِ ظہر بھی ادانہ کی ہو۔
الدرالمختار،علاء الدين محمد بن علي الحصكفي(م:1088ھ)(2/72)سعید
(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(2/72)سعید
قوله ( وعليه صلوات فائتة الخ ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء فيلزمه الإيصاء بها وإلا فلا يلزمه وإن قلت بأن كانت دون ست صلوات لقوله عليه الصلاة والسلام فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه …واعلم أيضا أن المذكور فيما رأيته من كتب علمائنا فروعا وأصولا إذا لم يوص بفدية الصوم يجوز أن يتبرع عنه وليه…قوله ( نصف صاع من بر ) أي أو من دقيقه أو سويقه أو صاع تمر أو زبيب أو شعير أو قيمته وهي أفضل عندنا لإسراعها بسد حاجة الفقير إمداد
الفتاوی الهندية،لجنة العلماء برئاسة نظام الدين البلخي(1/207)دارالفكر
فإن لم يوص وتبرع عنه الورثة جاز ولا يلزمهم من غير إيصاء كذا في فتاوى قاضي خان