بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ایک نماز میں تکرار سجدہ سہو کا حکم

سوال

ایک آدمی کو نماز میں اکثر ذہول ہو جاتا ہے۔ وہ اکثر بھول جاتا ہے کہ میں نے کتنی رکعتیں ادا کی ہیں۔ ایک مرتبہ عصر کی نماز قضا پڑھتے ہوئے اس سے ایک ذہول تو یہ ہوا کہ پہلا قعدہ بھول گیا۔ دوسرا یہ کہ تین رکعتوں پر سلام پھیر کر سجدۂ سہو کر لیا۔ تیسرا یہ کہ سجدۂ سہو کرنے کے بعد اسے یاد آیا کہ میں تو چار کے بجائے تین رکعتیں ادا کی ہیں۔ تو اس نے کھڑے ہو کر چوتھی رکعت ادا کی اور پھر سجدۂ سہو کیا۔ اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

سجدہ سہو

جو شخص اکثر رکعات کی تعداد بھو ل جاتا ہے اس کے لیے حکم یہ ہے کہ جس طرف اس کا دلی میلان ہو اس پر عمل کرے اور اگر کسی بھی طرف کوئی میلان نہ ہو تو جو کم ہو اس پر عمل کرناچاہئے (مثلاً تین وچار میں شک ہو تو تین پر عمل کرے اگر دو تین میں شک ہو تو دو پر عمل کرے )
مذکورہ شخص کی نماز درست ہوگی تاہم جب اس نے تین رکعات کے بعد بھول کر ایک مرتبہ سجدہ سہو کرلیا تھا تواسے دوبارہ سجدہ سہو نہیں کرنا چاہئےتھا۔
صحيح مسلم (1/ 211) یادگار شیخ 
عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا شك أحدكم في صلاته، فلم يدر كم صلى ثلاثا أم أربعا، فليطرح الشك وليبن على ما استيقن، ثم يسجد سجدتين قبل أن يسلم، فإن كان صلى خمسا شفعن له صلاته، وإن كان صلى إتماما لأربع كانتا ترغيما للشيطان
سنن الترمذي (1/90)قدیمی
روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «إذا شك أحدكم في الواحدة والثنتين فليجعلهما واحدة، وإذا شك في الاثنتين والثلاث فليجعلهما اثنتين، وليسجد في ذلك سجدتين قبل أن يسلم
الدر المختار (2/ 93)سعید
(وإن كثر) شكه (عمل بغالب ظنه إن كان) له ظن للحرج (وإلا أخذ بالأقل) لتيقنه
رد المحتار 2/ 93)سعید 
قوله وإن كثر شكه) بأن عرض له مرتين في عمره على ما عليه أكثرهم، أو في صلاته على ما اختاره فخر الإسلام. وفي المجتبى: وقيل مرتين في سنة
الفتاوى الهنديۃ(۱/۱۴۳) بیروت
ا لسهو في سجود السهو لا يوجب السهو؛ لأنه يتناهى، كذا في التهذيب ولو سها في سجود السهو عمل بالتحري ولو سها في صلاته مرارا يكفيه سجدتان، كذا في الخلاصة
البحر الرائق (۲/۱۷۴)رشیدیۃ
الخامس أنه لا يتكرر الوجوب بترك اكثر من واجب حتى لو ترك جميع واجبات الصلاة ساهيا فإنه لا يلزمه أكثر من سجدتين لأنه تأخر عن زمان العلة وهو وقت وقوع السهو مع أن الأحكام الشرعية لا تؤخر عن عللها فعلم أنه لا يتكرر إذ الشرع لم يرد به
بدائع الصنائع  (1/692)  بیروت
ولو سلم مصلي الظهر على رأس الركعتين على ظن أنه قد أتمها، ثم علم أنه صلى ركعتين، وهو الى مكانه – يتمها ويسجد للسهو أما الإتمام فلأنه سلام سهو فلا يخرجه عن الصلاة
الاختیار لتعلیل المختار/۹۸)    رشیدیۃ
من سھا فی الصلوۃ مرتین  او اکثر یکفیہ سجدتانِ
 امداد المفتین (۴/۲۲۱)ادارہ معارف القران
      فتاوی دارالعلوم دیو بند (۴ /۳۵۳)حقانیۃ
فتاوی عثمانیہ:(۲/۳۶۳) العصر اکیڈمی
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس