بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ایک شریک کاروبار سے نکل جائے تو اس کے ورثاء کاروبار میں حصہ دار نہیں ہوں گے

سوال

میں مسمی شیراز احمد  ولد رفیق احمد مرحوم اپنے بڑے بھائی رئیس احمد مرحوم کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوں ،21 سال ہم نے اکٹھے کام کیا  لیکن چار سال پہلے دکان پر بہت زیادہ قرض ہو گیا جس کے بعد رئیس احمد نے ملازمت کرلی اور کچھ قرضے اس کے ذریعے ادا کیے،  میں نےدکان پر چھوٹے موٹے قرضے ادا کیے اور ابھی مزید باقی ہیں۔میں نے بھائی رئیس احمد(مرحوم) کو چار سال سے کبھی500،کبھی300اور کبھی200روپے تقریبا روزانہ خرچہ کی صورت میں دیئے اور کبھی نہیں بھی دیئے۔رئیس صاحب چند ماہ پہلے ملازمت سے فارغ ہوکرانہوں نے مال کی سپلائی شروع کردی اور دکان پر باقاعدہ نہیں بیٹھے۔رئیس صاحب کی کوئی اولاد نہیں ہے اور ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ ہم 8بھائی اور چار بہنیں ہیں دکان پر موجودہ مال پرچون پر لیا ہوا ہے ۔اب میری حیثیت کا تعین کیا جائے کہ میں کیا کروں؟ کیا میری دکان میں رئیس صاحب کا حصہ ہے یا نہیں؟
تنقیح:  نمبر۱۔رئیس صاحب نے جب دکان چھوڑ کر ملازمت اختیار کی تو اس وقت آپ دونوں کے درمیان کیا معاہدہ ہوا؟
نمبر۲۔ علیحدگی کے بعد جو رقم آپ رئیس صاحب کو دیتے رہے کیا نفع میں شرکت کی وجہ سے  دیتے رہے یا صرف ان کے تعاون کی غرض سے؟
نمبر ۳۔کاروبار پر عائد ہونے والے قرض دونوں شریکوں کے قرض سے کم تھے یا زیادہ یا برابر؟
نمبر ۴۔مذکورہ دکان میں آپ صرف دو بھائی شریک تھے یا آپ کے علاوہ کوئی اور بھائی بھی اس میں شریک تھا؟
نمبر ۵۔شرکت کسی تحریر کے ذریعہ ختم ہوئی تھی یا زبانی؟
جواب تنقیح:نمبر ۱۔رئیس صاحب نے جب کاروبار سے علیحدگی اختیار کی تو ہمارے درمیان یہ طے ہو گیا تھا کہ اب رئیس صاحب کا کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہوگا انہوں نے کہہ دیا تھا کہ یہ دکان اور کاروبار اب تمہارا ہے  البتہ تم اپنی خوشی سے مجھے کچھ خرچ دے دیا کرے۔
نمبر ۲۔علیحدگی کے بعد جو رقم دیتا رہا وہ کاروبار کا نفع نہیں تھا بلکہ محض تعاون کے طور پر میں اپنی خوشی سے جو ہو سکتا  میں ان کو دے دیا کرتا تھا۔
نمبر ۳۔اصل سرمایہ سارا ختم ہوکر تقریبا 8 یا 9 لاکھ قرض چڑھ گیا تھا  جس کی ادائیگی علیحدگی کے وقت دونوں کے ذمے طے ہوئی تھی ۔
نمبر ۴۔کاروبار سب سے بڑے بھائی کا تھا ان سے رئیس صاحب نے خرید لیا تھا پھر کچھ رقم مجھ سے لے کر مجھے بھی اس میں شریک کردیا تھا جو کہ بعد میں رئیس صاحب نے میرے حوالے کردیا اور کوئی بھائی اس میں شریک نہیں تھا۔نمبر ۵۔شرکت ختم کرتے وقت کوئی تحریر نہیں لکھی گئی تھی بلکہ زبانی شرکت ختم ہو گئی تھی۔

جواب

کاروبار میں شرکت

سوال میں ذکر کردہ صورت حال اگر حقیقت پر مبنی ہے کہ رئیس صاحب آپ کے کاروبار سے بالکل  علیحدہ ہو گئے تھے آپ کے کاروبار میں ان کی کسی طرح سے بھی شرکت نہیں تھی تو اب ان کے انتقال کے بعد آپ کے کاروبار میں رئیس صاحب کے ورثاء بھی حصہ دار نہیں ہوں گے بلکہ اس کاروبار کے مالک آپ ہونگے۔
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(3/384)رشیدیۃ
(وتبطل الشركة) أي شركة العقد. . . . (بإنكارها) وبقوله: لا أعمل معك فتح (وبفسخ أحدهما) ولو المال عروضا۔
 رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(4/ 328)ایچ۔ایم۔سعید
وصرح في الخلاصة بأن أحد الشريكين لا يملك فسخ الشركة إلا برضى صاحبه۔
شرح مختصر الطحاوي للجصاص،ابو بکر بن علی الرازی(م:370ھ)(3/ 260)دارالبشائر الاسلامیۃ
مسألة: [حق الشريك في فسخ الشركة] قال: ولكل واحد من الشريكين أن يفسخ الشركة ما كان المال عينا، كما تفسخ الوكالة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس