بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اکیلے نماز پڑھنے والے کیلیے اقامت کا حکم

سوال

مفتی صاحب کیا اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اقامت کہنا ضروری ہے؟اور اگر اقامت نہ کہی جائے تو کیا نمازہو جائے گی؟

جواب

اگر اکیلے نماز پڑھنے والا گھر میں نماز ادا کر رہا ہے تو محلہ کی اذان و اقامت کافی ہے لیکن پھر بھی اذان و اقامت کہہ لینا مستحب ہے۔ اور اگر مسجد میں جماعت ہو جانے کے بعد مسجد میں نماز ادا کر رہا ہے تو بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھے گا اس کے لیے اذان و اقامت کہنا مکروہ ہے۔
:البحر الرائق(1/461)رشیدیۃ
(قوله: لا لمصل في بيته في المصر) أي لا يكره تركهما له والفرق بينهما أن المقيم إذا صلى بدونهما حقيقة فقد صلى بهما حكما؛ لأن المؤذن نائب عن أهل المحلة فيهما فيكون فعله كفعلهم۔
:بدائع الصنائع(1/652)دار الکتب العلمیۃ
اذا صلی الرجل فی بیتہ واکتفی باذان الناسواقامتھم اجزاہ،وان اقام فھو حسن۔
:غنیۃ المستملی:صـــ358:المجتبائی
واما المنفرد فالافضل لہ ان یاتی بھما لیکون اداؤہ علی ھیئۃ الجماعۃ۔
:الدر المختار(2/78)رشیدیۃ
(بخلاف مصل) ولو بجماعة (في بيته بمصر) أو قرية لها مسجد، فلا يكره تركهما إذ أذان الحي يكفيه (أو) مصل (في مسجد بعد صلاة جماعة فيه) بل يكره فعلهما۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس