بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

انبیاء کی تعداد کتنی ہے؟ اور ان پر ایمان لانے کا درست عقیدہ کیا ہے؟

سوال

حدیثِ مبارکہ میں انبیاء کرام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے جبکہ قرآن میں صرف 25 انبیاء کا ذکر ہے ،ہم حدیث پر ایمان لائے یا قرآن میں جن انبیاء کا ذکر ہے ان پر؟ اس کا مدلل جواب درکار ہے۔

جواب

انبیاء پر ایمان

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن مجید میں صرف 25 انبیاء کا ذکر اللہ نے کیا ہے مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جتنےانبیاءکاذکرقرآن میں اللہ نے کیاہےانبیاءصرف یہی ہیں ؛ کیونکہ خود قرآن کریم کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں سب انبیاء کاذکرنہیں ہے،بلکہ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کا ذکر کیا ہے اور بعض کانہیں کیا،ارشادربانی ہے{ومنهم من قصصنا عليك ومنهم من لم نقصص عليك}[المؤمن: ۷۸] ترجمہ:( ان انبیاء میں سے کچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے تمہیں بتاد ئیےکچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے تمہیں نہیں بتائے) ، اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ قرآن کریم میں تمام انبیاءکاذکرنہیں آیالہٰذااحادیث میں جو ایک لاکھ چوبیس ہزار کا ذکر آیا ہےوہ قرآن مجید کے معارض نہیں ہے ۔
البتہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ انبیاء کرام کا ایک لاکھ چو بیس ہزار ہونا قطعی اور یقین نہیں ہے، بلکہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تعداد کے حوالے سے روایات مختلف ہیں اورسب اخبارآحادکےدرجےمیں ہیں لہذاقطعیت کےساتھ ان کوکسی عددپرمحمول نہیں کیاجاسکتا، تعدادمتعین کیئےبغیرکمی پیشی کےساتھ اجمالی طورپربس اتناایمان لاناکافی اورضروری ہےکہ اللہ تعالی نےجتنےانبیاءکرام بھیجےہیں میں ان سب پرایمان لاتاہوں ۔ انبیاء میں سب سےپہلےنبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اورسب سےآخری حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
روح البيان (8/ 238)العلمية
قوله : {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا} ذوي عدد كثير إلى قومهم. {مِّن قَبْلِكَ} ؛ أي : من قبل بعثتك يا محمد ، أو من قبل زمانك. {مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ} . قوله : منهم خبر مقدم لقوله : من قصصنا عليك.والجملة صفة لرسلاً ،  وقص عليه بين ؛ أي : بيناهم وسميناهم لك في القرآن، فأنت تعرفهم. {وَمِنْهُم مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ}
والحاصل : أن المذكور قصصهم من الأنبياء أفراد معدودة ، وقد قيل : عدد الأنبياء مائة وأربعة وعشرون ألفاً. قال في “شرح المقاصد” : روي عن أبي ذر الغفاري رضي الله عنه أنه قال : قلت لرسول الله عليه السلام : كم عدد الأنبياء؟.  فقال : “مائة ألف وأربعة وعشرون ألفاً”.  فقلت : فكم الرسل ، فقال : “ثلاثمائة وثلاثة عشر جماً غفيراً”.   لكن ذكر بعض العلماء أن الأولى أن لا يقتصر على عددهم ؛ لأن خبر الواحد على تقدير اشتماله على جميع الشرائط لا يفيد إلا الظن ، ولا يعتبر إلا في العمليات دون الاعتقاديات وها هنا حصر عددهم يخالف ظاهر. قوله تعالى : {مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا} إلخ
روح المعاني (3/ 163) دار الكتب العلمية 
{ يا أيها الذين آمنوا}  خطاب للمسلمين كافة فمعنى قوله تعالى: {آمنوا بالله ورسوله والكتاب الذي نزل على رسوله والكتاب الذي أنزل من قبل} أثبتوا على الإيمان بذلك وداوموا عليه، وروي هذا عن الحسن، واختاره الجبائي، وقيل: الخطاب لهم، والمراد ازدادوا في الإيمان طمأنينة ويقينا، أو آمنوا بما ذكر مفصلا بناء على أن إيمان بعضهم إجمالي
مشكاة المصابيح مع مرقاة المفاتیح(11/42)امدادية
وعن أبي ذر رضي الله عنه قال: قلت: يا رسول الله أي الأنبياء كان أول؟ قال: آدم . قلت: يارسول الله ونبي كان؟  قال:نعم نبي مكلم .  قلت يارسول الله كم المرسلون؟
قال: ” ثلاثمائة وبضعة عشر جما غفيرا ” وفي رواية أبي أمامة، قال أبو ذر: قلت يا رسول الله كم وفاء عدة الأنبياء قال: ” مائة ألف وأربعة وعشرون ألفا، الرسل من ذلك ثلاثمائة وخمسة عشر حما غفير
قوله: (قال أبو ذر: قلت؟ يا رسول الله كم وفاء عدة الأنبياء) ؟ أي كم كمال عددهم (قال: ” مائة ألف وأربعة وعشرون ألفا، الرسل من ذلك ثلاثمائة وخمسة عشر جما غفيرا “) . العدد في هذا الحديث وإن كان مجزوما به، لكنه ليس بمقطوع، فيجب الإيمان بالأنبياء والرسل مجملا من غير حصر في عدد، لئلا يخرج أحد منهم، ولا يدخل أحد من غيرهم فيهم. (وعن ابن عباس قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم: ليس الخبر كالمعاينة
رد المحتار (1/ 527)سعيد
مطلب في عدد الأنبياء والرسل – عليهم الصلاة والسلام – (قوله كالإيمان بالأنبياء) لأن عددهم ليس بمعلوم قطعا، فينبغي أن يقال آمنت بجميع الأنبياء أولهم آدم وآخرهم محمد عليه وعليهم الصلاة والسلام معراج؛ فلا يجب اعتقاد أنهم مائة ألف وأربعة وعشرون ألفا، وأن الرسل منهم ثلثمائة وثلاثة وعشرون لأنه خبر آحاد
کذا في العقیدۃ الحسنۃ (ص:۶۷)وفتاوی محمودیۃ(۱۷/۴۱۶)فاروقیہ کراچی
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس