فتح القدیر،العلامة ابن الهمام(م: 861هـ)(1/ 356)دارالفكر
الأصح ماروي عن أبي حنيفة أنه قال:أكره للإمام أن يقوم بين الساريتين أو زاوية أوناحية المسجدأوإلى سارية لأنه بخلاف عمل الأمة۔
امدادالاحکام،مولاناظفراحمدعثمانیؒ(م:1394)(1/524)دارالعلوم کراچی
“اس سے معلوم ہواکہ مختاروجہ کراہت کی ،تشبیہ وامتیازہے،اوراس میں اندرونی محراب اوردروازےبرابرہیں،لہذامسجدکےدرمیں کھڑاہونابھی مکروہ ہے”
وکفا یت المفتی ،مفتی کفایت اللہ دہلویؒ(م:1372ھ) (4/412)ادارۃ الفاروق کراچی
“محراب اصل تووہی ہےجوديوارِقبلہ میں ہوتی ہے،لیکن اس کاحکم ان دروں پربھی جوباہرکےدروازوں میں بصورت محراب بنائے جاتےہیں ،بعض فقہاء نےعائدکیاہے،اس لئےاحتیاط یہ کہ امام ان دروں کےباہرکھڑاہو،تاکہ کسی قسم کاشبہ اورشک باقی نہ رہے،لیکن اگر امام در میں بھی کھڑاہوجائےتولڑنےجھگڑنےکاموقع نہیں ہے،کیونکہ زیادہ سےزیادہ اولیٰ اورخلاف اولیٰ کااختلاف ہے،اورلڑائی جھگڑاحرام ہے”۔