بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

امام کو اس کے سہو پر متنبہ کرنے کےلئے تسبیح کے بجائے تکبیر کے ساتھ لقمہ دینا

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ جب امام بھولتا ہے تو مقتدی کبھی سبحان اللہ کہتے ہیں ، کبھی اللہ اکبر کہتے ہیں جبکہ حدیث میں تسبیح کا ذکر ہے تو اللہ اکبر کہنا کیسا ہے ؟ نماز میں کوئی فرق تو نہیں پڑتا ۔

جواب

امام کو اس کے سہو پر متنبہ کرنے کے لیے سبحان اللہ کہنا چاہیے جو کہ سنت سے ثابت ہے اور تکبیر سے بھی امام کو متنبہ کیا جا سکتا ہے اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
الصحیح للإمام مسلم(4/124) دارالکتب العلمیة:
عن ابن شهاب، أخبرني سعيد بن المسيب، وأبو سلمة بن عبد الرحمن، أنهما سمعا أبا هريرة يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:التسبيح للرجال والتصفيق للنساء.
الفتاوي الهندية(1/110) دارالکتب العلمیة:
ولو عرض للإمام شيء فسبح المأموم لا بأس به؛ لأن القصد به إصلاح الصلاة ولا يسبح للإمام إذا قام إلى الأخريين؛ لأنه لايجوز له الرجوع إذا كان إلى القيام أقرب فلم يكن التسبيح مفيدا.
 (كذا في البحر الرائق(2/12) رشيدية )
المحيط البرهاني(2/148)دار أحياء تراث العربي:
وإن عرض للإمام فسبح له، فلا بأس به، وكذا إذا سبح ليعلم غيره أنه في الصلاة لا تفسد صلاته، ولا يسبح للإمام إذا قام للأخريين.
(كذا فى التاتارخانية(2/220) مكتبة فاروقية كوئته.)
فتاوٰی محمودیہ (7/154) دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتاوٰی دارالعلوم دیوبند (4/59) مکتبہ حقانیہ ملتان
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس