آجکل بحمد اللہ ہمارے دیار میں مدارس کی جانب سے اجتماعی قربانی کا انتظام کیا جاتا ہے اور ایام قربانی کے مہینہ ڈیڑھ مہینہ پہلے سے مساجد میں اشتہارات چسپاں کئے جاتے ہیں کہ ایک حصہ ۱۲۰۰0 کا اور پورا جانور ۸۴۰۰0 کا ۔ جوشخص اپنا کوئی حصہ یا جانور لکھوانا چاہتا ہے تو وہ ذمہ داران مدرسہ کو پیسے جمع کرتا ہے اور ان سے ایک رسید وصول کرتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ جانور کی قیمت اور اس پر لگنے والے ضروری صرفہ کے بعد بھی قیمت بچے گی جو مدرسہ کے کاموں میں استعمال کی جائے گی۔ اب بالفرض اگر قربانی کے تمام اخراجات کی ادائیگی کے بعد بھی ایک جانور پر آٹھ سو، ہزار بارہ یا پندرہ سو روپے بچتے ہوں تو ان کا مدرسہ میں صرف کرنا کیسا ہے؟ چونکہ بظاہرتو اس رسید پڑھنے والے کو بادیٴ النظر میں یہی خیال ہوتا ہوگا کہ تمام اخراجات کی ادائیگی کے بعد کچھ سو، پچاس روپے بچ جاتے ہوں گے۔ خلاصہ یہ کے رسید کے اس جملے سے “جانور کی قیمت اور اس پر لگنے والے ضروری صرفہ کے بعد بھی قیمت بچے گی جو مدرسہ کے کاموں میں استعمال کی جائے گی۔” بقیہ تمام رقم لینے کاحق ہوگا؟ نوٹ:- چونکہ بہت سے جانور ایک ساتھ لئے جاتے ہیں، اس لئے قیمت کم ہوتی ہے، اگر یہی جانور قربانی کرنے والوں کے گاؤں کے اندر لئے جاتیں تو قربانی کا صرفہ اس سے بھی زیادہ ہوتا؟ اس سوال کا جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
البیہقی (7/ 376) مکتبة الرشد والنشر بالتوزیع الریاض
عن ابي حرة الرقاشي عن عمه عن النبي ﷺ قال: قال رسول اللہ ﷺ: لا يحل مال امرئ مسلم إلا عن طيب نفس» “۔
مرقاة المفاتيح (5/ 1974)
(” لا يحل مال امرئ “) أي: مسلم أو ذمي (” إلا بطيب نفس “) أي: بأمر أو رضا منه۔
رد المحتار (4/6۱) سعید
لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی۔