بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ستاروں کی مدد سے بچوں کے نام رکھنے کا حکم

سوال

آج کل لوگ بچے کا نام رکھنے سے پہلے ناموں کا ستارہ نکالتے ہیں یہ عمل کرانا کیسا ہے ؟راہنمائی کیجیے

جواب

نام رکھتے وقت علم ِنجوم کی مدد سے خاص کر سیاروں ،تاریخ ،دن ،وقت یا اعداد کے طاق و جفت کا حساب لگانے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ،ایسا کرنے سے عمومامعاشرہ میں عقیدہ کی خرابی اورعملی برائیاں جنم لیتی ہیں جو اللہ پر ایمان و یقین کی کمزوری ،توہم پرستی اور بد اعتقادی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں ۔لہٰذا ان سے اجتناب ہی بہتر ہے۔
البتہ ایسے نام رکھنے چاہییں جو اچھے اور با معنیٰ ہوں ،شرکیہ اور بُرے مفہوم مثلاً لغو ،تکبر وغیرہ پر مشتمل نہ ہوں ۔اس لئےمناسب یہ ہے کہ اُن ناموں کا انتخاب کیا جائے جن کی احادیث مبارکہ میں ترغیب آئی ہے جیسا کہ انبیاء کرام علیھم السلام ،صحابہ کرام ،صحابیات رضی اللہ عنھم وعنھن،اؤلیاء اللہ ، امت کے بزرگ اور نیک خواتین کے نام تھے۔اس میں خیر و برکت زیادہ ہے ۔(ماخذہ :تبویب جامعہ دارالعلوم کراچی، فتوٰی نمبر 1416/57، مطبوعہ :مجموعہ مستند اسلامی نام ص32-33)
صحيح البخاري (1/454) محمودية لاهور
وقال قتادة: {ولقد زينا السماء الدنيا بمصابيح}  خلق هذه النجوم لثلاث: جعلها زينة للسماء، ورجوما للشياطين، وعلامات يهتدى بها، فمن تأول فيها بغير ذلك أخطأ، وأضاع نصيبه، وتكلف ما لا علم له به
صحيح البخاري (2/914) محمودية لاهور
 عبد الحميد بن جبير بن شيبة، قال: جلست إلى سعيد بن المسيب، فحدثني: أن جده حزنا قدم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما اسمك قال: اسمي حزن، قال: بل أنت سهل قال: ما أنا بمغير اسما سمانيه أبي قال ابن المسيب: فما زالت فينا الحزونة بعد
سنن الترمذي  (2/111) عشرة مبشرة لاهور
 عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يغير الاسم القبيح
سنن أبي داود (4/ 287) المكتبة العصرية، صيدا – بيروت
 عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم
رد المحتار(1/ 44)
وإنما زجر عنه من ثلاثة أوجه
أحدها: أنه مضر بأكثر الخلق، فإنه إذا ألقى إليهم أن هذه الآثار تحدث عقيب سير الكواكب وقع في نفوسهم أنها المؤثرة
وثانيها: أن أحكام النجوم تخمين محض
وثالثها: أنه لا فائدة فيه، فإن ما قدر كائن والاحتراز منه غير ممكن اهـ ملخصا
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس