ایک پلاٹ جس کی مالیت تقریباً اڑھائی کروڑ ہے، یہ پلاٹ ایک خاتون کی ملکیت ہے جو بہت ضعیف ہے، اس کے والدین اور بھائی اور شوہر فوت ہو چکے ہیں ان کی کوئی اولاد نہیں ہے ایک بہن حیات ہیں اور بھائی جو ان سے پہلے فوت ہو گئے، ان کی اولاد موجود ہے جن کی تعداد سات ہے چار بیٹیاں اور تین بیٹے، اس تفصیل کے مطابق مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دیں ۔
نمبر(1)اس خاتون کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اس کی میراث شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم ہوگی۔
نمبر(2)اگر وہ خاتون اپنی زندگی میں اپنے کسی رشتہ دار کو اپنی جائیداد یا اس کا کچھ حصہ گفٹ کرنا چاہے تو ان کا یہ عمل شریعت کے خلاف تو نہیں۔
تنقیح :کیا خاتون مرض الوفات میں مبتلا ہیں ؟
جوابِ تنقیح :خاتون کی عمر اس وقت ستر سال ہے اور بالکل صحت مند ہے ۔
نمبر(1)زندہ شخص سے جائیداد کی تقسیم کا تقاضا وراثت کے طور پر کرنا جائز نہیں ہے، وراثت کا تعلق اس بقیہ ترکہ سے ہوتا ہے جو انسان اپنی وفات کے وقت اپنی ملکیت میں چھوڑتا ہے تین حقوق (تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور جائز وصیت) ادا کیے جانے کے بعد، لہٰذا خاتون کے انتقال کے وقت جو ورثاء زندہ ہونگے وہی شریعت کے مطابق اس کے وارث کہلائیں گے، ابھی سے ان کی تعیین درست نہیں۔
نمبر(2)اگر صاحبِ جائیدادخاتون ایسے مرض میں مبتلاء نہ ہوں جس میں صحت یابی کی امید بالکلیہ ختم ہو گئی ہو تو وہ زندگی میں اپنی جائیدادیا اس کا کچھ حصہ دلی خوشی و رضامندی سے کسی کو ہبہ (گفٹ) کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں ، بشرطیکہ کسی وارث کو محروم کرنے کی نیت نہ ہو نیز خاتون کو چاہیے کہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے اپنی جائیداد کا کچھ حصہ روک کر رکھ لیں تاکہ بعد میں کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔
فتح الباري (5/ 214)
وذهب الجمهور إلى أن التسوية مستحبة فإن فضل بعضا صح وكره
رد المحتار (6/ 758) دارالفکر بیروت
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه
وفی الدرالمختار (5/ 687)
(وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) فلا تصح هبة صغير ورقيق، ولو مكاتبا
بدائع الصنائع (7/ 337) دار الكتب العلمية
لأن هبة المريض في معنى الوصية حتى تعتبر من الثلث
تکملة فتح الملهم: (71/5 (دار العلوم کراتشی
“فالذي يظهر لهذا العبد الضعيف عفا الله عنه: ان الوالد ان وهب لاحد ابنائه هبة اكثر من غيره اتفاقا، او بسبب علمه، او عمله، او بره بالوالدين من غير ان يقصد بذالك اضرار الاخرين ولا الجور عليهم، كان جائزا علي قول الجمهور،….أما إذا قصد الاضرار او تفضيل احد الابناء علي غيره بقصد التفضيل من غير داعية مجوزة لذالك، فانه لا يبيحه احد
الفتاوى الهندية (4/ 391)دارالفکر بیروت
ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم وھو المختار… ولو كان الولد مشتغلا بالعلم لا بالكسب فلا بأس بأن يفضله على غيره
البحر الرائق: (288/7: ( دار الکتاب الاسلامي
يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم