میں نے اپنی اہلیہ کو جب پہلی دفعہ جھگڑا ہوا تو دو دفعہ بولا تھا” میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں ،میری تمہاری طلاق ہو گئی ہے” اس کے بعد ایک ہفتہ گزرنے کے بعد پھر دو دفعہ یہی الفاظ دہرائے اس کے 15 دن بعد ہمارا کوئی اتفاق نہیں ہو سکا اور پھر تین دفعہ یہی الفاظ دہرائے گئے “میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں ،میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے “ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی ہے نیت میری طلاق دینے کی تھی جب تیسری مرتبہ تین دفعہ بولا ، تب بھی طلاق دینے کی نیت تھی؟
صورت مسئولہ میں جب آپ نے اپنی اہلیہ کو مختلف اوقات میں مختلف طلاق کے الفاظ” میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں، میری تمہاری طلاق ہو گئی ہے ،میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے “مجموعی طور پرتین مرتبہ سے زائدکہے ہیں، تواس سے آپکی اہلیہ پرتین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو گئی ہے ،اب نہ تو آپ اس سے رجوع کر سکتے ہیں اور نہ ہی تحلیل شرعی کے بغیر دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں ۔
الدر المختار (3/ 247) دار الفكر
باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها
الفتاوى الهندية (1/ 473) دار الفكر
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187) دار الكتب العلمية
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة