بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

عورت كا اپنے زيورات شوہركی اجازت كےبغیر صدقہ یا ہبہ کرنے کا حکم ؟/عورت کو رخصتی سے پہلے سسرال کی طرف سے ملنے والے زیورات کاحکم ؟/کیا شوہر ایک بیوی کو اپنی دوسری بیوی کی خدمت پر مجبور کر سکتا ہے ؟/شوہر کے ظلم کرنے کی صورت میں بیوی خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے یا نہیں ؟/دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی رضامندی ضروری ہے؟

سوال

ایک عورت اپنے زیورات شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو بطور صدقہ یا ہدیہ دے سکتی ہے یا نہیں؟اسی طرح اگر وہ بیچنا چاہے تو کیا حکم ہے ؟
نمبر۲۔ایک عورت کی منگنی ہوئی، رخصتی سے پہلے سسرال کی جانب سے اس کو کچھ زیورات ملے ،تو کیا وہ سسرال کی اجازت کے بغیر ان کو آگےصدقہ کر سکتی ہے یا نہیں؟اور کیا بطور ہدیہ کسی کو دے سکتی ہے یا نہیں ؟
نمبر۳۔کسی بندے نے دو شادیاں کی اس صورت میں اگر ایک بیوی بیمار پڑھ جاتی ہے تو کیا شوہر دوسری بیوی کو اس کی خدمت پر مجبور کر سکتا ہے یا نہیں ؟یا ویسے عام حالات میں بھی ایک سوکن پر دوسری کی خدمت لازمی ہوتی ہے یا وہ اس سے آزاد ہے۔
نمبر۴۔اگر کوئی بندہ اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے نہ اس کے حقوق ادا کرتا ہے نہ طلاق دیتا ہے ،تو کیا اس عورت کے رشتہ دار، بھائی والد ،وغیرہ اس سے زبردستی طلاق دلواسکتے ہیں؟اور اگر وہ طلاق نہ دے تو کوئی ایسا عمل (تعویذات یا کوئی اور حیلہ وغیرہ)اختیار کیا جا سکتا ہے کہ وہ عورت اس سے آزاد ہو جائے ،اگر وہ اس کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو؟
نمبر۵۔کیا دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی رضامندی ضروری ہے؟نیزایک آدمی نے دو شادیاں کی ،اب ایک بیوی کو اپنے ساتھ رکھتا ہے،(یعنی وہ بندہ مسافر ہے گھر سے دور جہاں رہتا ہے وہاں اس نے دوسری شادی بھی کی ہے اب وہ بیوی اس کے ساتھ وہاں رہتی ہے )جبکہ دوسری بیوی جہاں اس کا اپنا وطن ہے وہاں رہتی ہے،لیکن اس مرد نے اس بیوی کو اس بات پرراضی کیا ہوا ہے کہ ہر مہینہ میں تین دن (یعنی شب وروز )اس کے پاس گذارے گا، کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟اگر نہیں تو کیا کیا جائے؟

جواب

نمبر(۱۔۲)عورت کو اپنے ذاتی مال میں تصرف کا اختیار ہے، البتہ شوہر اور سسرال والوں کی طرف سے جو زیور بطور ہدیہ کے ملتے ہیں، اسی طرح جوما ل اس عورت کی ذاتی ملکیت میں ہے ان کو اور زیورات کو آگےہدیہ یا صدقہ کرنے کے لیےبہتر یہ ہے کہ بیوی شوہر سے اجازت لے کر ان زیورات کو ہدیہ یا صدقہ کرے ،تاکہ یہ گھر میں فتنہ اور فساد اور ناراضگی کا سبب نہ بنے۔
نمبر۳۔واضح رہے کہ بیوی پر اپنی سوکن کی خدمت شرعاً لازم نہیں ہے ،البتہ اخلاقی طور پر اس خدمت کو انجام دینا باعث ثواب اورحسن معاشرت کا اظہار ہے۔
نمبر۴۔اگر واقعتاً کوئی بندہ اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے اور اس کے حقوق ،مثلاًنان ونفقہ وغیرہ ادانہیں کرتا ہے ، ،تو سب سے پہلے وہ شوہر کو مال کے عوض طلاق یا مہر چھوڑنےکے بدلےخلع پر آمادہ کرے،اگر اس پر آمادہ نہیں ہوتا توعدالت میں تنسیخ نکاح کےشرعی اسباب کی بنیاد پر مقدمہ دائر کرنا چاہیےاور عدالت کی طرف سےفسخ نکاح کی ڈگری طلاق کے حکم میں ہو گی،اس کا تفصیلی درست طریقہ دارالافتاء سے رجوع کر کے سمجھا جا سکتا ہے) تاہم اس کے لیے کوئی غیر شرعی طریقہ اختیار کرنے سے بچنا چاہیے(مثلاًتعویذ گنڈے کرنا ،جادو وغیرہ ) (ماخذہ حیلہ ناجزہ:ص،72،ط :دارالاشاعت۔
نمبر۵۔دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سےاجازت لینا شرعاً ضروری نہیں ہے ،تاہم بیویوں کے درمیان نان ونفقہ،رہائش اور ادائیگی حقوق میں برابری ضروری ہے ،ہاں اگر بیوی رہائش سے متعلق اپنے حقوق معاف کردے یا اس میں کمی کردے تو اس کو اس کا اختیار ہے وہ کر سکتی ہےاور اگر وہ اپنے حقوق کادوبارہ مطالبہ کرے تو کر سکتی ہے ۔
شرح سنن ابن ماجه للسيوطي وغيره (ص: 172)
لا يجوز لامرأة في مالها الخ أي لا يجوز التصرف في مالها أيضا الا بإذن زوجها إذا هو ملك عصمتها أي عصمة النكاح والعصمة بالكسر المنع وإنما يطلق على النكاح لأن المرأة تمنع بسبب عن الخطاب وهذا الأمر بطريق المصلحة فإن المرأة ربما تجترئ وتصرف في مالها فتفقر بذلك التصرف والا فجماهير العلماء على خلاف ذلك والدليل على ذلك امضاء تصرف الصحابيات بلا نكير فصار هذا الأمر تقريرا من النبي صلى الله عليه وسلم وإجماعا من الصحابة بعد ذالك والله اعلم۔
بذل المجهود(15/128)مكتبة رشيدية۔
هو عند اكثر العلماءمعنى حسن العشرة واستطابة نفس الزوج بذالك الا ان مالك ابن انس قال:يرد ما فعلت من ذالك  حتى ياذن  الزوج،قال الشيخ:وقد يحتمل اں يكون ذالك في غير رشيدة،وقدثبت عنه ﷺانه قال للنساء(تصدقن)فجعلت المرءةتلقى القرط والخاتم و بلال يتلقاها بكسائه وهذه عطية بغير اذن الزوج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفي هذالحديث ان كان المراد من العطيةمن مال زوجها فحكمه ظاهرا،واما اذاكان المراد من العطية من مالها فهو محمول على الادب والاختيار والمشاورةمع الزوج۔
شرح المجلة(4/132 )مكتبة رشيدية
كل يتصرف في ملكه كيف شاء لكن اذا تعلق حق الغير۔
اعلاء السنن(15/7397)دارالفكر۔
عن كريب مولى ابن عباس ،ان ميمونة بنت الحارث (رضي الله عنها)اخبرته انها اعتقت وليدة ولم تستأذن النبي ﷺ،فلما كان يومها الذي يدور عليها فيه قالت :اشعرت يا رسول الله ﷺ،اني اعتقت وليدتي ، قال:او فعلت ؟قالت نعم قال:(اما انك لو اعطيتها اخوالك كانااعظم لاجرك۔
سنن نسائي (1 /874)الرسالة الناشرون ۔
عن عمربن شعيب ،عن ابيه عن جده ان رسول الله ﷺقال:( لا يجوز لامرأة هبة في مالها اذا ملك زوجها عصمتها )۔
الدر المختار (3/ 153(سعيد 
ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ۔
الفتاوى الهندية (1/ 3۵۹)دارالکتب العلمية
وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية
الدر المختار (3/ 208)سعید
وحقه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به
بدائع الصنائع(۳/۲۰۸)حبیبیۃ رشیدیۃ۔
 و علیھا ان تطیعہ فی نفسھا و تحفظ غیبتہ۔
مشكاة المصابيح (2/281)حبیبیۃ رشیدیة
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من ای أبواب الجنة شاء
قال الله فى سورةالنساء(4/3)
فانكحو ما طاب لكم من النساءمثنى و ثلث وربع،فان خفتم الا تعدلو فواحد
البحر الرائق (3/380)رشيدية
 وفي فتح القدير فاستفدنا أن حل الأربع مقيد بعدم خوف عدم العدل وثبوت المنع عن أكثر من واحدة عند خوفه فعلم إيجابه عند تعددهن اهـ ،وظاهره أنه إذا خاف عدم العدل حرم عليه الزيادة على الواحدة۔
ترمذي شريف  (1/542)الرسالةالناشرون۔
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كانت عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط
الدر المختار  (3/ 207)سعيد
(ويقيم عند كل واحدة منهن يوما وليلة) لكن إنما تلزمه التسوية في الليل، حتى لو جاء للأولى بعد الغروب وللثانية بعد العشاء فقد ترك القسم، ولا يجامعها في غير نوبتها، وكذا لا يدخل عليها إلا لعيادتها ولو اشتد۔
الدرالمختار (3/ 201)سعید
(و يجب ان يعدل فيه )اي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب. ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحيانا۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

29

/

33

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس