بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

والدہ، ایک حقیقی بہن اوردوحقیقی بھائیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں ایک شخص کا انتقال ہوا اس کے ورثاءدرجہ ذیل ہیں: والدہ ،ایک حقیقی بہن اور دو حقیقی بھائی ،میت نے مذکورہ ورثاء کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں چھوڑا ،میت کا کل ترک00,000 33 )تینتیس لاکھ )روپے ہے، براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں ورثا ءکا حصہ بتادیں کہ کس وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

واضح رہے کہ میت کے انتقال کےوقت اس کی ملکیت میں موجودہرچھوٹی بڑی چیزاورمنقولہ وغیرمنقولہ جائیداداور سازوسامان شرعاًترکہ کہلاتاہےجس سےترتیب وارچارحقوق متعلق ہوتےہیں۔ ۱۔ تجہیز و تد فین ۲۔قرضوں کی ادائیگی۳۔ اگرکوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال کی حد تک اس کوپوراکیاجائے۔ اس کے بعد مرحوم کے انتقال کے وقت اگر مذکورہ و رثاء کے علاوہ اور کوئی وارث زندہ نہیں تھا تو میت کےبقیہ ترکہ کےچھ حصے کرکے ایک حصہ ماں کو،ہربھائی کو۲،۲ حصے اور بہن کو ایک حصہ دیاجائے۔ نقشہ درج ذیل ہے۔

ميــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ماں بھائی۲                                                    بہن
سدس عصبہ
۶/۱ فی کس۶/۲ ۶/۱
550000 فی بھائی1100000 550000
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس