اگر کسی شخص سے کوئی ایک کفر یہ جملہ صادر ہو جائے ،اور وہ جملہ اسے یاد بھی ہو تو اگر وہ توبہ کے وقت اس جملہ کو دہرائے بغیر ان الفاظ سے توبہ کر لے :”یا اللہ !جو کفر صادر ہوا میں اس سے توبہ کرتا ہوں “اور ساتھ میں کلمہ طیبہ بھی پڑھ لے تو کیا اس طرح توبہ کرنا درست ہے؟ کیا وہ شرعاً کافی ہے؟اس کے بعد اگر اس نے نکاح کر لیا ہو تو کیا وہ نکاح درست ہوگا؟یا یہ ضروری ہے کہ وہ شخص پہلے اس کفریہ جملے کو دہرا کر اس سے توبہ کرے، پھر تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرے؟
توبہ کرتے وقت کفریہ کلمات کو دہرانا
توبہ کرتے وقت کفریہ کلمات کو دہرانا ضروری نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور ندامت و شرمندگی کے ساتھ کفر،شرک اور گناہ سےتوبہ کرے اور پختہ عزم کرے کہ آئندہ ایسے کفریہ کلمات کہنے سے مکمل اجتناب کروں گا ، اس کے بعد تجد یدایمان کرلے، اور اگر شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی کرلے، لہٰذا سوال میں مذکور جس طریقہ پر توبہ کی ہے وہ کافی ہے ،اور اس کے بعد جو نکاح کیا گیا وہ بھی درست ہے،اور آئندہ مکمل احتیاط کرے۔
رد المحتار(4/ 228) دار الفكر
ثم اعلم أنه يؤخذ من مسألة العيسوي أن من كان كفره بإنكار أمر ضروري كحرمة الخمر مثلا أنه لا بد من تبرئه مما كان يعتقده لأنه كان يقر بالشهادتين معه فلا بد من تبرئه منه كما صرح به الشافعية وهو ظاهر
الفتاوى الهندية (2/ 253) دار الفكر
وإسلامه أن يأتي بكلمة الشهادة، ويتبرأ عن الأديان كلها سوى الإسلام، وإن تبرأ عما انتقل إليه كفى كذا في المحيط