حضرت میری بہن کا نکاح خالہ ذادے ۶سال پہلے زبردستی کروایا گیا تھا انہوں نے پہلے ہی گھر والوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ وہ یہ نکاح نہیں کرنا چاہتی لیکن لڑکے والوں نے کہا کہ ہم الگ گھر بنوا دیں گے لڑکے کی اچھی نوکری لگوا دیں گے وغیرہ یہ سب دیکھ کر والد صاحب نے خاندان کے بڑوں کے کہنے پر نکاح کروا دیا لیکن ان لوگوں نے شرائط پوری نہیں کی اور ان کے قول کے مطابق آ ئیندہ بھی پوری نہیں کریں گے رخصتی کامتعدد بار کہا ہے ،لیکن میری بہن رضامند نہیں اب جب کہ انہوں نے شرائط پوری نہیں کی والدین بھی نکاح ختم کرنا چاہتے تھے اس لیے والد صاحب نے کورٹ میں خلع کاکیس کیا لیکن وہ لوگ جان بوجھ کر کورٹ حاضر نہیں ہوئے کورٹ نے خلع لکھ کر دی ہے ان لوگوں نے چھ سالوں میں میری بہن کو عیدوں پر تحائف کے طور پر کچھ سامان دیا تھا وہ بھی وہ لوگ واپس لے گئے ہیں اور مہر میں پانچ ہزار دیے تھے ان کے واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہے وہ لوگ لڑکے کے لیے نیا رشتہ بھی دیکھ رہے ہیں لیکن ابھی تک لڑکے نے خود میری بہن کو طلاق نہیں دی اور بار بار کہنے پر بھی نہیں دے رہا گھر والے سب کہہ رہے ہیں کہ طلاق ہو گئ ۔حضرت آپ رہنمائی فرما دیں کہ اس طرح طلاق ہو گئی یا نہیں کیا میری بہن کہیں اور نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟ خلوت صحیحہ ابھی نہیں ہوئی
آپ کاسوال اوراس کےساتھ منسلک عدالتی کاغذات کامطالعہ کیا،اس کی روشنی میں عرض ہےکہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیےکہ خلع ایک عقدمالی ہے،جس کی درستگی کےلئےشرط اور ضروری ہے کہ فریقین کی باہمی رضامندی سے با قاعده ایجاب و قبول ہو۔ عموماً عدالتی کاروائیوں میں اس کی رعایت بالکل مفقود ہوتی ہے، اس لئے اگر فسخِ نکاح کا کوئی سبب موجود نہ ہو تو عدالت کی طرف سے ایسی ڈگری جاری ہونے کے باوجو د شرعا ًنکاح ختم نہیں ہوتا ،بلکہ وہ نکاح بدستور شرعا قائم رہتا ہے ۔ سوال کے ساتھ لف دعوی میں کوئی ایسا سبب موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر جج کو شرعا ًتنسیخِ نکاح کا حق حاصل ہو، اس لئے فریقین کا نکاح برقرار ہے۔
واضح رہے کہ جب تک لڑکی اپنے آپ کو شوہر کے حوالہ نہ کرے اس وقت تک نان نفقہ شوہر پر لازم نہیں۔ لڑکی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو شوہر کے حوالہ کرے اور شوہر بیوی کے تمام حقوقِ زوجیت اور نان نفقہ و غیرہ ادا کرے۔ البتہ الگ گھر کا مطالبہ بیوی کا حق ہے، اس لئے شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کو ایسا الگ کمرہ دے جہاں پر کسی کی مداخلت نہ ہو ،اور اس میں اس کواپنےساز و سامان کا مکمل طور پر تحفظ ہو۔ لہذا صورت ِمسئولہ میں اس لڑکی کا نکاح شوہر ِمذکور سے منعقد ہو کر لازم ہو چکا ہے ، اب جب تک وہ طلاق نہ دے یا مسلمان حاکم شریعت کے مطابق کسی شرعی سبب کی بنیاد پر دونوں میں تفریق نہ کرے اس وقت تک یہ لڑکی اس کے نکاح میں رہے گی، کسی اور مرد سے اس کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ اب اگر لڑ کی شوہر کو پسند کرنا گوارا نہیں کرتی اور اس کو اور اس کے گھر والوں کو پورا یقین ہو کہ آئندہ ان دونوں کا خوشی خوشی نباہ نہیں ہو سکے گا ، تو موجودہ صورتِ حال میں لڑکی والوں کو چاہیے کہ نصف مہر معاف کراکے یا کچھ اضافی رقم کی لالچ دے کر با قاعدہ رضا مندی سے خلع یا طلاق حاصل کرلے یا خاندان کے بڑوں کو بٹھا کر مسئلہ حل کر لیں۔
في القرآن المجيد
وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما إن الله كان عليما خبيرا (نساءآية:35)
التفسيرالبيضاوي (1/142)
فإن خفتم أيها الحكام. ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به على الرجل في أخذ ما افتدت به نفسها و اختلعت، و على المرأة في إعطائه تلك حدود الله إشارة إلى ما حد من الأحكام، فلا تعتدوها فلاتتعدوها بالمخالفة
بدائع الصنائع( 3/229ط:دار الکتب العلمیة)
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول
رد المحتار( ٣/441)سعيد
إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ،ولا يستحق العوض بدون القبول
تبيين الحقائق (6/ 221)
وإن كان المنع لينقلها إلى منزله لا تكون ناشزة لأن السكنى واجبة لها عليه فكان حبسها نفسها منه بحق فلا تسقط نفقتها لأن التقصير جاء من جهته فصار كما إذا حبست نفسها لاستيفاء مهرها
المحیط البرہانی : دار الكتب العلمية، بيروت
و المعنى في ذلك أن النفقة إنما تجب عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقيًا تقديرًا، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديرًا، وبدونه لايمكن إيجاب النفقة