بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دو تولے سونے پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں ؟

سوال

دو تولے سونے پر فريضہ مالیہ (زکوٰۃ) واجب ہے یا نہیں میں نے کسی سےسنا تھا کہ جدید فتویٰ یہ ہے کہ ساڑھے سات تولے سونے پرفريضہ مالیہ( زکوٰۃ )واجب ہو گی اس سے کم پر نہیں،کیا یہ درست ہے؟

جواب

سونے پر زکوۃ

واضح رہے کہ اگر صرف دو تولہ سونا ہے، اس کےعلاوہ نقدی، چاندی یا مالِ تجارت میں سے کچھ بھی نہیں ہے تودو تولے سونے پرفريضہ مالیہ( زکوٰۃ )واجب نہیں ہوگی، اس لیے کہ سونے پرفريضہ مالیہ ( زکوٰۃ ) واجب ہونے کے لیے سونے کا ساڑھےسات تولہ ہونا شرعاً ضروری ہے، لیکن اگر سونے کے ساتھ ملکیت میں دیگر اموال زکوٰۃ میں سے بھی کوئی چیز ہو مثلاً کچھ نقدی ہو چاہے بہت معمولی ہی کیوں نہ ہو تو اس صورت میں اس سونے اور نقدی دونوں پر زکوٰ ۃ واجب ہوگی۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 16) دار الكتب العلمية
أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم
الدر المختار (2/ 295) دار الفكر
(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة)
رد المحتار (2/ 295) دار الفكر
(قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس