بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زانی مزنیہ سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

سوال

اگر کسی شخص (زانی) نے کسی خاتون ( مزنیہ) کی بیٹی سے نکاح کیا، بعد میں معلوم ہوا کہ زنا کا تعلق اس کی والدہ ( مزنیہ ) سے تھا، اس لیے اس بیٹی سے نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ : جب زانی نے مزنیہ کی بیٹی سے صرف نکاح کیا ہو ، اور اس کے ساتھ خلوت یا جماع نہ کیا ہو ، تو کیا اب وہ اس مزنیہ سے (یعنی اس عورت سے جس سے زنا کیا تھا) نکاح کر سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

زانی کا نکاح مزنیہ سے

جی ہاں!اب وہ شخص اس مزنیہ (یعنی جس سے زنا کیا تھا ) سے نکاح کر سکتا ہے۔ (مأخذہ:فتاویمحمو دیہ،۱۱/۱۱۸مکتبہ جامعہ فاروقیہ کراچی)
 الفتاوى الهندية (1/ 274) دار الفكر
وتثبت حرمة المصاهرة بالنكاح الصحيح دون الفاسد، كذا في محيط السرخسي.  فلو تزوجها نكاحا فاسدًا لاتحرم عليه أمها بمجرد العقد بل بالوطء هكذا في البحر الرائق. وتثبت بالوطء حلالا كان أو عن شبهة أو زنا، كذا في فتاوى قاضي خان. فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير
الفتاوى الهندية (1/ 280) دار الفكر
إذا تزوج امرأة قد زنى هو بها وظهر بها حبل فالنكاح جائز عند الكل وله أن يطأها عند الكل وتستحق النفقة عند الكل
الدر المختار (3/ 48) دار الفكر
(و) صح نكاح (حبلى من زنى لا) حبلى (من غيره) أي الزنى….. لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا والولد له ولزمه النفقة
البحر الرائق (3/ 114) دار الكتاب الإسلامي
 (قوله أو زنا) أي وحل تزوج الموطوءة بالزنا أي الزانية
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس