بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

رضا کارکے لیے خدمت کے دوران ہونے والے اخراجات کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟

سوال

شعائر اللہ (قربانی کے جانوروں) کی خدمت کے لیے مدرسے والوں نے کسی شخص کو چارہ لانے کی ذمہ داری سونپی۔ ظاہر ہے کہ چارہ عام طور پر کسی سواری کے ذریعے کرایہ دے کر لایا جاتا ہے اور وہ کرایہ بھی عرف میں معلوم و متعین ہوتا ہے۔ اب اگر وہ شخص یہ چارہ اپنی موٹر سائیکل پر (جس میں پٹرول خرچ ہوتا ہے) یا کسی اور کی سواری پر یا خود اپنے کندھوں پر اٹھا کر لاتا ہے، اور وہ متعین کرایہ (جو عام طور پر سواری پر دینے کا ہوتا ہے) اپنے پاس رکھ لیتا ہے، بغیر مدرسے والوں کو اطلاع دیے، اس بنیاد پر کہ اس نے یا تو اپنی سواری استعمال کی یا خود محنت کی تو کیا اس کا یوں کرایہ رکھ لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ مدرسہ والوں نے چارہ کسی مخصوص سواری کے ساتھ لانے کی پابندی نہیں لگائ ہے۔

جواب

اخراجات کا مطالبہ

مدرسہ کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ معاملات ابتدا ہی سے طے کرے اور معاملات کو صاف رکھے ،مذکورہ صورت میں چارہ لانے والے اور مدرسہ کی انتظامیہ کے درمیان کوئی عقد اجارہ نہیں ہوا بلکہ چارہ لانے والا رضاکارانہ طور پر یہ خدمات سر انجام دے رہا ہے تو اگر چارہ لانے پر اخراجات نہیں ہوئے تو اس کے لیے کرایہ نکالنا جائز نہیں اور اگر چارہ لانے کی صورت میں پٹرول وغیرہ کے اخراجات ہوئے ہوں تو مدرسہ کو چاہیے کہ وہ اخراجات رضاکار کو مطالبہ پرادا کرے۔
دررالحکام شرح مجلۃ الحکام (۳/۵۷۴)العربیة 
إذا شرطت الأجرۃ في الوکالۃ  وأوفاھا ا لوکیل استحق الأجرۃ وإن لم تشترط  ولم یکن الوکیل ممن یخدم بالأجرة کان متبرعا  فلیس لہ  أن یطالب  بالأجرۃ
الفقہ الاسلامی وأدلتہ (۵/۴۰۵۷)رشیدیة
الوکالہ باجر تصح  الوکالۃ باجروبغیر اجر : لان النبی ﷺکان یبعث عمالہ؛ لقبض الصدقات ویجعل لھم عمولۃ
                        سنن الدار قطنی (۳/۲۲) العلمیہ 
لا یحل مال امرئ من مال أخیہ شیئ إلا بطیب نفس منہ
الدر المختار (5/ 678)
(و) لعدم لزومها (يرجع المعير متى شاء) ولو موقتة أو فيه ضرر فتبطل، وتبقى العين بأجر المثل كمن استعار أمة لترضع ولده وصار لا يأخذ إلا ثديها فله أجر المثل إلى الفطام
شرح المجلۃ (۳/۳۱۴)رشیدیة
نفقۃ المستعار علی المستعیر ،  بناء علیہ لو ترک المتعیر الدابۃ المعارۃ بدون علف فھلکت ضمن
أحکام القرآن(۹/۳۵۲)ادارۃ اشرف
قوله تعالى : {مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سبيل }[ الآية : ٩١]
قتل الخصاص : عموم فى أن كل من كان محسنا فى شىء فلا سبيل عليه فيه ويحتج به في مسائل مماقد اختلف فيه نحو من استعار ثوبا ليصلى فيه أو دابة ليحح عليها جهلك فلا سبيل عليه في تضمينه لانه محسن وقد نفى الله تعالى السبيل عليه نفيا عاما ونطائر ذلك مما يختلف في وجوب الضمان عليه بعد حصول صفة الاحسان له فيحتج به نافوا الضمان ويحتج مخالفنا فى اسقاط ضمان الجمل الصّؤر اذا قتله من خشى ان يقتله باله محسن في قتله للجمل وقال تعالى: ((مَا عَلَى الْمُحْسِنين من  سبيل) ونظائرة كثيرة – وفي القرطبي وقال ابو حنيفة : تلزمه لمالكه القيمة
وقال في التفسيرات الأحمدية وكلام صاحب الهداية يدل على أن المعنى ما على الناصحين عزم وحجة ولذا قال في بيان مذهب أبي يوسف ومحمد : أن من ارسل صيدا من المحترم الاضمان عليه لانه امر بالمعروف وناه عن المنكر وما على المحسنين من سبيل وعند ابي حنيفة يضمن لاجل الملك على ما هو اصله واصلهما في سائر آلات البدع واللهو
تفسير المظهري(3/346)
(ما على المحسنين)وضع المحسنين موضع الضمير للدلالة علي أنهم منخرطون في سلك المحسنين غير معاتبين(من سبيل)إلي معاتبهم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس