بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

عورتوں کا تعزیت کے لیے جانے کاحکم

سوال

قریبی رشتے داروں میں فوتگی ہونے کی صورت میں عورتوں کو تعزیت کے لیے نمازجنازہ کے وقت جانا چاہیئے یا بعد میں؟اسی طرح قرب و جوار میں فوتگی ہونے کی صورت میں عورتوں کو تعزیت کے لیے جانا چاہیئے یا نہیں ؟جب کی نہ جانے کی صورت میں لوگ ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں ۔

جواب

تعزیت

تعزیت کا وقت میت کے انتقال کے وقت سے لے کر تین دن تک ہوتا ہے، اس دوران کسی بھی وقت تعزیت کی جاسکتی ہے۔ البتہ افضل وقت تدفین کے بعد کا ہے کیونکہ اس سے پہلے اہل میت میت کی تجہیز و تکفین اور تدفین میں مشغول ہوتے ہیں اورتکفین وتدفین کےبعدمیت کی جدائی کی وجہ سےاہل میت زیادہ حزن و ملال کی کیفیت میں ہوتے ہیں ۔لیکن اگر اہل میت تکفین وتدفین سے پہلےزیادہ حزن و ملال کی کیفیت میں ہوں اور انہیں سکون نہ آتا ہوتو پہلے بھی تعزیت کر سکتے ہیں۔نیز تین دن کے اندر اندر تعزیت کرنا سنت ہےتین دن کے بعد مکروہ ہے لیکن اگر کو ئی عذر در پیش ہو تو بعد میں بھی کر سکتے ہیں۔ پردہ وغیرہ کے احکام کی رعایت کرتے ہوئے خواتین اپنے ملنے جلنے والی خواتین سے تعزیت کرسکتی ہیں تاہم اس میں نیت اللہ کی رضا حاصل کرنے کی ہو ، یہ نیت نہ ہو کہ کہیں وہ ناراض نہ ہوجائیں۔
مشكاة المصابيح (2/ 1092)
وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق» . رواه في شرح السنة
الفتاوى الهندية (1/ 167)
ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام ويكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها وهي بعد الدفن أولى منها قبله وهذا إذا لم ير منهم جزع شديد فإن رئي ذلك قدمت التعزية ويستحب أن يعم بالتعزية جميع أقارب الميت الكبار والصغار والرجال والنساء إلا أن يكون امرأة شابة فلا يعزيها إلا محارمها، كذا في السراج الوهاج
 حاشية الطحطاوي (ص: 618)
قوله: “تستحب التعزية الخ” ويستحب أن يعم بها جميع أقارب الميت إلا أن تكون امرأة شابة وهو المشار إليه بقوله اللاتي لا يفتن
رد المحتار (2/ 240)
في شرح المنية: وتستحب التعزية للرجال والنساء اللاتي لا يفتن، لقوله – عليه الصلاة والسلام – «من عزى أخاه بمصيبة كساه الله من حلل الكرامة يوم القيامة»
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس