بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اگر تو نہیں جاتی تو تو مجھ پر تین شرطیں طلاق”بیوی کو کہنے کا حکم”

سوال

میرے اور میرے سسر کے درمیان ٹرانسپورٹ کے معاملے پر توں تکرار ہوئی تو اس وقت میری بیوی بھی میرے سسر کے ہاں موجود تھی، تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ آو اپنے گھر چلتے ہیں، تو میری بیوی نے کہا کہ اب وقت جانے کا نہیں ہے کل چلے جائیں گے، تو میں نے کہا کہ اگر تم نہیں جاتی تو توں مجھ پر تین شرطیں طلاق ہے ،پھر بیوی نہیں گئی اور خاوند چلا گیا، اب طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟ اگر واقع ہو گئی ہے تو کونسی طلاق ہو گئی؟

جواب

طلاق کا حکم

صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی پر تین طلاقیں مغلظہ واقع ہوگئی ہیں، اور وہ آپ پر حرام ہوگئی ہے ۔ نہ توآپ اس سے رجوع کرسکتےہو اور نہ ہی تحلیل شرعی کے بغیر نکاح کر کے آپس میں اکٹھے رہ سکتے ہیں۔
بدائع الصنائع (۳ /۱۶۱+۱۷۴) العلمية 
أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: ” أنت طالق ” أو ” أنت الطلاق، أو طلقتك…. وأما الصريح البائن فبخلافه وهو أن يكون بحروف الإبانة أو بحروف الطلاق، لكن قبل الدخول حقيقة أو بعده، لكن مقرونا بعدد الثلاث نصا أو إشارة أو موصوفا بصفة تدل عليها… وكذلك إذا كان مقرونا بعدد الثلاث نصا بأن قال لها: أنت طالق ثلاثا لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]
الفتاوى الهندية (1/ 420)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق… ثم الشرط إن كان متأخرا عن الجزاء فالتعليق صحيح وإن لم يذكر حرف الفاء إذا لم يتخلل بين الجزاء وبين الشرط سكوت ألا ترى أن من قال لامرأته: أنت طالق إن دخلت الدار يتعلق الطلاق بالدخول
الدر المختار (3/ 252)سعيد
ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف
تبيين الحقائق  (2/ 197) دار الكتاب الإسلامي
والمعلق بالشرط مثل أن يقول أنت طالق إن دخلت الدار أو إن كلمت فلانا لا يقع إلا بوجود الشرط
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس