نمبر ۱۔الف ۔عقیدہ حیاتِ انبیاء علیہم السلام کیا ہے؟
ب۔دینِ متین میں اس (عقیدہ حیات النبی ﷺ )کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
نمبر۲۔الف۔اہلسنت والجماعت کے عقائد میں سے سماع صلوٰۃ و سلام (روضہ اطہر پر پڑھے جانے والا درود و سلام حضور ﷺ خود سنتے ہیں اور دور سے پڑھا جانے والا درود و سلام حضور ﷺ تک فرشتے پہنچاتے ہیں )کا کیا حکم ہے؟
ب۔ روضہ رسول پہ حاضری کے وقت بار گاہ رسالت میں شفاعت طلب کرنا کیسا ہے ؟
ج۔حج یا عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے والے کو یہ کہنا کہ کہ روضہ رسول پہ حاضری کے وقت بارگاہ رسالت میں میرا نام لے کر صلوٰۃ و سلام عرض کرتے ہوئے میرے حق میں بھی شفاعت کی درخواست کرنا کیا شرعاً ٹھیک ہے ؟
نمبر۳۔ الف۔کیا ان عقائد کے منکرین اہل السنت والجماعت میں داخل ہیں ؟
ب۔ ان کو مستقل طور پر امام بنانا کیسا ہے ؟ ج۔ان سے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا کیسا ہے؟ د۔ان لوگوں کے خطباء کو بیان کے لیے بلانا یا ان کی محفلوں میں جانا کیسا ہے؟ ھ۔ان کو چندہ دینا شرعاً کیسا ہے ؟
عقیدہ حیات النبی ﷺ سے متعلق آپ کے نام سے سوالات 24 نومبر2020کوبذریعہ ای میل دارالافتاء میں موصول ہوئے تھے،اس کا جواب مؤرخہ 19/6/1442ھ بمطابق 2/2/2021ءکو دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ چوبرجی ،لاہور اور دارالافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور کے مشترکہ پلیٹ فارم اور مفتیان ِ کرام کے دستخطوں سے(بحوالہ فتوٰی نمبر 11/85 ) دیا جا چکا ہے ۔ اس کی کاپی دوبارہ آپ کو ارسال کی جاتی ہے۔ لہٰذا آپ کو چاہیئے کہ اسی کے مطابق اپنا عقیدہ اپنائیں اور عمل کریں ،مزید کسی بحث میں نہ پڑیں اور اس سے متعلق باربارسوال کرنے سے گریز کریں۔ اس میں آپ کے سوال نمبر(1 تا 3۔ج )کا جواب دیا جا چکا ہےبقیہ سوالات کا جواب ذیل میں ملاحظہ فرمایئے۔
نمبر(3۔د) اہل السنت والجماعت کے عقائد سے متفق علماءکے بیانات سننے چاہیئے اور انہی کو اپنے اسٹیج پر بیانات کے لیے بلانا چاہیئے۔ اہل السنت والجماعت کے عقائد سے منحرف شخص کےنہ بیانات سننے چاہیئں اور نہ ہی اس کو اپنے پاس بیان کے لیے بلانا چاہیئے ۔
نمبر(3۔ھ)نیز ایسے شخص کو چندہ بھی نہ دیں جواہل السنت والجماعت کے عقائد سے منحرف ہو اور ان عقائد کا پرچار کرتا ہو کیونکہ یہ گمراہی میں معاونت ہے جس سے بچنا ضروری ہے ۔
[المائدة: 2]
{وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان}
الدر المختار (2/ 354)
(ولا يجوز صرفها لأهل البدع) كالكرامية؛ لأنهم مشبهة في ذات الله وكذا الشبهة في الصفات (في المختار)؛ لأن مفوت المعرفة من جهة الذات يلحق بمفوت المعرفة من جهة الصفات مجمع الفتاوى
رد المحتار (2/ 354)
(قوله: ولا يجوز صرفها لأهل البدع) عبارة البزازية ولا يجوز صرفها للكرامية إلخ فالمراد هنا بالبدع المكفرات…….. والمختار أنه لا يجوز الصرف إليهم أيضا؛ لأن مفوت المعرفة من جهة الصفة ملحق بمفوت المعرفة من جهة الذات (قوله كما لا يجوز دفع زكاة إلخ) مثل الزكاة كل صدقة واجبة إلا خمس الركاز