بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کنائی الفاظ کے ذریعے کسی شرط پر طلاق کو معلق کرنا

سوال

زید نے اپنی بیوی کو یہ کہا ہے بلوچی میں کہ ” اگاں تو پلانی ء ِلوگ ءِ ، شُتے گڈا تو مناں چی سستگ اِت ” ترجمہ :” اگر تو فلاں شخص کے گھر گئی تو مجھ سے ختم ہے ” ان الفاظ سے کون سی طلاق واقع ہو گی بائن یار جعی ؟ اور کیا ایک مرتبہ جانے سے بس ایک طلاق واقع ہو گی یا ہر دفعہ جانے سے طلاق واقع ہو گی یہاں تک تین طلاقیں واقع ہو جائیں ؟ اور اس طلاق سے بچنے کیلئے کوئی حیلہ ہے یا نہیں ؟

جواب

طلاق کو معلق کرنا

مذکورہ الفاظ” اگر تو فلاں شخص کے گھر گئی تو مجھ سے ختم ہے “کہنے والے کی نیت کے محتاج ہیں، لہٰذااگر ان الفاظ سے طلاق کی نیت ہو (جیسا کہ بظاہر معلوم ہو رہا ہے)اور بیوی اس شخص کے گھرچلی جائے تواس پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور نکاح ختم ہو جائے گا ۔عدت کے دوران یا عدت کے بعد اگر دوبارہ ساتھ رہنے پر دونوں رضامند ہوں تو نئے مہر کے ساتھ از سر نو نکاح کر کےاکٹھے رہ سکتے ہیں۔ اور یہ حکم صرف پہلی دفعہ جانے کی صورت میں ہے اس کے بعد جب بھی اس شخص کے گھر جائے گی تواس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔اور ایک طلاق سے بھی بچنے کا صرف ایک ہی حل ہے کہ بیوی اس شخص کے گھر نہ جائے۔
الفتاوى الهندية (1/ 420)
 وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا
البحر الرائق (4/ 4) دار الكتاب الإسلامي
(قوله إنما يصح في الملك كقوله لمنكوحته إن زرت فأنت طالق أو مضافا إليه كأن نكحتك فأنت طالق)….. (قوله فيقع بعده) أي يقع الطلاق بعد وجود الشرط في المسألتين سواء كان التعليق في الملك أو مضافا إليه
التاتارخانية(5/54)الفاروقیۃ
إن حصل التعليق بكلمة إن وإذا  وإذا ما ومتى ومتى ما  فهذا على مرة واحدة حتى لو فعلت ذلك الفعل مرة  واحدة وقع الطلاق ولو فعلت ذلك مرة أخرى لا يقع الطلاق
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس