بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غیر مستحق شخص کا زکوۃ لے کر مستحق کو دینا کیسا ہے؟

سوال

زید صاحب نصاب ہے، یعنی خود زکوۃ کے مستحق نہیں۔ انہوں نے خالد سے زکوۃ کی رقم اس نیت سے وصول کی کہ وہ یہ رقم اپنے ایسے قریبی رشتہ دار کو دیں گے جو شرعا مستحق زکوۃ ہے۔اب درج ذیل امور میں شرعی راہنمائی درکار ہے
نمبر۱۔ اگر خالد نے زید کو محض زکوۃ دے دی، اور اسے نہ تو زید کے مستحق ہونے کا علم ہے، اور نہ ہی زید کو مستحق رشتہ دار کا وکیل بنایا ہے ، تو ایسی صورت میں زید کا یہ رقم لینا اور آگے دینا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
نمبر ۲۔ اگر زید خود زکوة کا مستحق نہیں، تو کیا وہ صرف نیت سے (بغیر وکالت کے ) مستحق رشتہ دار کوز کوۃ پہنچا سکتا ہے ؟
نمبر ۳۔ اور اگر زید کا وہ رشتہ دار ، جسے یہ رقم دی جائے، معاملے کی تمام تفصیل جانتا ہو۔ یعنی یہ کہ رقم ایک غیر مستحق شخص (زید) کے ہاتھ سے آئی ہے۔ تو کیا اس کے لیے یہ رقم بطور ز کوۃ قبول کرنا جائز ہے ؟
نمبر ۴۔ کیا ایسی صورت میں زکوۃ ادا بھی ہو جائے گی یا نہیں؟ اور اگر نہیں ہوتی تو خالد پر دوبارہ زکوۃ دینا لازم ہے یا نہیں؟

جواب

غیر مستحق شخص کا زکوۃ لینا

نمبر (۱،۲)صورت مسئولہ میں زید کے لیے اس رقم کو لےکراپنے مستحق رشتہ دار کو دیناشرعاً درست نہیں،بلکہ اسے واپس کر دینی چاہیئے۔
نمبر۳۔معلوم ہونے کی صورت میں قبول کرنا درست نہیں ہے کیونکہ زید اس رقم کا مالک ہی نہیں ہے۔
نمبر۴۔اگر خالد نے غور و فکر کر کے زید کو مستحق سمجھ کر زکوٰۃ کی رقم دی پھر چاہے وہ مستحق ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں اس کی زکوۃ ادا ہو گئی،(تاہم زید کو جب علم ہے تو اس کے لیے لینا درست نہیں جیسا کہ اوپر ذکر دیا گیا) لیکن اگر خالد نے بغیر غور و فکر کے زید کو مستحق سمجھ کر زکوۃ دی ہے تو پھر اس کو دوبارہ زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔
رد المحتار (2/ 347) دار الفكر
 فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة
الدر المختار (2/ 352) دار الفكر
(دفع بتحر) لمن يظنه مصرفا (فبان أنه عبده أو مكاتبه أو حربي ولو مستأمنا أعادها) لما مر (وإن بان غناه أو كونه ذميا أو أنه أبوه أو ابنه أو امرأته أو هاشمي لا) يعيد لأنه أتى بما في وسعه، حتى لو دفع بلا تحر لم يجز إن أخطأ
الفتاوى الهندية (1/ 190) دار الفكر
وأما إذا ظهر أنه غني أو هاشمي أو كافر أو مولى الهاشمي أو الوالدان أو المولودون أو الزوج أو الزوجة فإنه يجوز وتسقط عنه الزكاة في قول أبي حنيفة ومحمد – رحمهما الله تعالى -، ولو ظهر أنه عبده أو مدبره أو أم ولده أو مكاتبه فإنه لا يجوز عليه أن يعيدها بالإجماع، وكذا المستسعى عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – هكذا في شرح الطحاوي.وإذا دفعها، ولم يخطر بباله أنه مصرف أم لا فهو على الجواز إلا إذا تبين أنه غير مصرف
البحر الرائق (2/ 266) دار الكتاب الإسلامي
 وليس المراد بالتحري الاجتهاد بل غلبة الظن بأنه مصرف بعد الشك في كونه مصرفا وإنما قلنا هذا؛ لأنه لو دفع باجتهاد دون ظن أو بغير اجتهاد أصلا أو بظن أنه بعد  الشك ليس بمصرف ثم تبين المانع فإنه لا يجزئه
الموسوعة الفقهية الكويتية (23/ 333) دارالسلاسل
لا يحل لمن ليس من أهل الزكاة أخذها وهو يعلم أنها زكاة، إجماعا. فإن أخذها فلم تسترد منه فلا تطيب له، بل يردها أو يتصدق بها؛ لأنها عليه حرام
جواھر الفقہ(۳/۲۴۷)دارالعلوم کراچی
احسن الفتاویٰ(۴/۲۹۰)اشاعت اسلام
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس