بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

!دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں قتل کرنا

سوال

ایک شخص دماغی مریض ہے اکثر اوقات دماغی توازن ٹھیک رہتا ہے بعض اوقات صحیح نہیں ہوتا اب اگر مذکورہ شخص دماغی توازن بگڑنے پر اپنی بیوی کو قتل کرے تو شریعت میں اس کی کیا سزاہوگی ؟ اگر دیت ہے توکتنی ہے؟

جواب

اگر مذکورہ شخص کاحالت جنون میں قتل کرنا گواہوں سے ثابت ہو تو قتل خطاء کے حکم میں ہوگا جس پر قصاص نہیں ہے۔ اس کی عاقلہ پر صرف دیت لازم ہوگی۔
اورقتل خطاء کی دیت مفتی بہ قول کے مطابق تین چیزیں ہیں
نمبر۱۔۱۰۰ اونٹ۔
نمبر۲۔ایک ہزار دینار یا اس کی قیمت ۔
نمبر۳۔دس ہزار درہم یا اس کی قیمت ۔ موجودہ دور میں تو لہ کے اعتبار سے۲۶۲۵تولہ چاندی ۶۱۸= ۳۰کلو گرام چاندی بنتی ہے۔
 الدر المختار  (۱۰/۲۵۷) ایچ ایم سعید 
(وعمد الصبي والمجنون) والمعتوه (خطأ)… (وعلى عاقلته الدية)… (ولا كفارة ولا حرمان إرث)
ردالمحتار (۲ /۲۵۸  ) ایچ  ایم سعید
مطلب في أحكام المعتوه (قوله: ولو معتوها) في المغرب: المعتوه الناقص العقل، وقيل المدهوش من غير جنون اهـ وفيه التفصيل المار في الصبي كما في التتارخانية، وفي عامة كتب الأصول أن حكمه كالصبي العاقل في كل الأحكام
بدایع الصنایع  (۱۰/ ۲۳۶)بیروت
  أما  الذي  یرجع إلی القاتل فخمسۃ: أحدھا أن یکون عاقلا.   والثانی  أن یکون بالغا  فإن کان مجنونا  أو صبیاً   لا یجب  لأن    القصاص عقوبۃ وھما لیس من أھل العقوبۃ
معجم الوسیط (۶۳۳)
    نقص عقلہ  من غیر جنونِ
المنجد (۶۳۷)
 کم عقل ، مدھوش ہونا
المغنی  لابن     قدامہ ؒ (۱۰/۶۰۰)دارالکتب 
وعمدالصبی والمجنون خطاء
   تبین الحقایق ( ۷/۳۵۲) رشیدیہ 
 (وعمد الصبي والمجنون خطأ وديته على عاقلته ولا تكفير فيه ولا حرمان عن الميراث والمعتوه كالصبي)
 ومثلہ فی  البحر الرا ئق (۹/۱۰۰)
البنایة شرح الھدایة (۱۲/۲۶۷)رشیدیة
(وعمد الصبي والمجنون خطأ وفيه الدية على العاقلة، وكذلك كل جناية موجبها خمسمائة فصاعدا) ش: وهو منصوب على الحال والحال محذوف، تقديره: ولو زاد خمسمائة حال كونه الزائد فصاعدا م: (والمعتوه كالمجنون) ش: أي حكمهما واحد. وفي ” المغرب “: المعتوه الناقص العاقل، وقيل: المدهوش من غير جنون
   کتاب الأصل(۶/۵۵۶ ) بیروت
وجراحة الصبي إذا أصاب صبيا أو كبيرا خطأ أو تعمد ذلك بسلاح أو غيره فهو على العاقلة وكذلك المعتوه المجنون الذي يفيق وكذلك المجنون إذا أصاب في حال جنونه عمدا أو خطأ فذلك كله سواء تعقله العاقلة
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (7/ 5665) رشیدیہ
يشترط في القاتل الذي يقتص منه شروط أربعة
1 – أن يكون مكلفاً (أي بالغاً عاقلاً)، فلا قصاص ولا حد على الصبي أو المجنون؛ لأن القصاص عقوبة، وهما ليسا من أهل العقوبة؛ لأنها لا تجب إلا بالجناية، وفعلهما لا يوصف بالجناية. ومثلهما زائل العقل بسبب يعذر فيه كالنائم والمغمى عليه ونحوهما؛ ولأن هؤلاء ليس لهم قصد صحيح، فهم كالقاتل خطأ
فتاوی عثمانیہ (۹/97،۸۰)العصر اکڈمی
اوزان الشرعیہ(۶۲)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس