بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

امام ابو حنیفہ کی تقلید کا درست مطلب اور اطاعت الہی ورسول سے عدم تعارض کی توجیہ

سوال

قرآن مجید میں سات سو مرتبہ اللہ کی اطاعت اوررسول کی اطاعت کاحکم دیاہےلیکن ہم کہتےہیں ہم امام ابوحنیفہ کی تقلید کرتے ہیں ایساکیوں؟

جواب

تقلید کیا ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ اصل حکم یہ ہے کہ اللہ اوراس کےرسول ﷺکی اطاعت کی جائے،اورقرآن وسنت کےاحکام پرعمل کیاجائے۔
لیکن قرآن وسنت میں بعض احکام توایسےہیں کہ جن کوہرمعمولی لکھاپڑھاآدمی سمجھ سکتاہے،ان میں کوئی ابہام نہیں ہے،جبکہ اس کےبرعکس قرآن وسنت کےبہت سےاحکام ایسےہیں کہ جن میں کوئی ابہام یا اجمال پایاجاتاہے،اورکچھ ایسےبھی ہیں جوقرآن میں ہی کسی دوسری آیت یا حضورﷺکی کسی حدیث سےمتعارض معلوم ہوتے ہیں،اوران کےمعنی سمجھنےاوراحکام کےاستنباط میں بہت سی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ توقرآن وسنت کےایسےپیچیدہ احکام میں اس مطلب کواختیارکرنا اورعمل کرناجوکسی مجتہدیا فقیہ نےسمجھاہےیہ تقلید ہے، چونکہ لوگوں سےتقوی اوردیانت روزبروزختم ہوتاجارہاہے،نیزہرشخص میں عمومایہ صلاحیت نہیں ہےکہ وہ قر آن وحدیث سےمسائل اخذکرےاورسمجھے،اس لئےفقہا نےاس کومحسوس کرکے تقلیدکولازم قرادیا۔اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی امام یامجتہدکی تقلیدکامطلب ہرگزیہ نہیں ہےکہ اسےبذات خود واجب الاطاعت سمجھ کریا اسےشارع کادرجہ دیکراس کی ہربات کو واجب الاتباع سمجھاجارہاہے، بلکہ مطلب صرف یہ ہےکہ پیروی تواصل قرآن وسنت کی مقصودہے،لیکن قرآن وسنت کی مرادکوسمجھنے کےلئے ان کی بیان کی ہوئی تشریح وتعبیرپرصرف اعتمادکرکےعمل کیاجارہاہے۔اوریہ بات اطاعت الٰہی کےخلاف نہیں ہےجیساکہ ایک مجیب کےمجوزعلاج ودواءپرسبب کےدرجے میں اعتقادہوتاہے،اس کو فی ذاتہ موثرکوئی بھی نہیں سمجھتا۔
لہذا ہم جوامام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کی تقلیدکرتےہیں اس سے ان کوشارح کادرجہ دیکر یا بذات خود واجب الاطاعت سمجھ کرنہیں کرتےبلکہ قرآن وسنت کےان پیچیدہ مسائل میں یہ سمجھ کران کےقول پرعمل کرتےہیں کہ وہ قرآن وسنت کےعلوم میں پوری بصیرت کےحامل ہیں،اور انہوں نےقرآن وسنت سے جو مطلب سمجھاہے وہ میرےلیے زیادہ قابل اعتمادواعتبارہے۔یہی وجہ ہےکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کےمقلدین بہت سےمسائل میں حضرت امام صاحب کےبجائےامام ابو یوسف اور امام محمدرحمہمااللہ کےقول پرفتوی دیتےہیں۔اوربعض ایسے مسائل بھی ہیں جن میں بعدکےحضرات یادیگرائمہ ثلاثہ میں امام مالک رحمہ اللہ کے مذہب ہرفتوی دیاجاتاہے۔ ملحوظہ :اس موضوع پردورِحاضرکےعظیم محدث شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی کتاب ’’تقلیدکی شرعی حیثیت‘‘کامطالعہ بےحدمفیدہوگا۔
قال اللہ تعالی
{ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ }[النحل: 43]
روح المعاني (7/ 387)
واستدل بها أيضا على وجوب المراجعة للعلماء فيما لا يعلم
وفي الإكليل للجلال السيوطي أنه استدل بها على جواز تقليد العام في الفروع وانظر التقييد بالفروع فإن الظاهر العموم لا سيما إذا قلنا إن المسألة المأمورين بالمراجعة فيه والسؤال عنها من الأصول، ويؤيد ذلك ما نقل عن الجلال المحلي أنه يلزم غير المجتهد عاميا كان أو غيره التقليد للمجتهد لقوله تعالى:{ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ }
مجمع الزوائد (1/ 178)العلمية
 عن ابن عباس قال: خطب عمر بن الخطاب الناس بالجابية وقال: يا أيها الناس، من أراد أن يسأل عن القرآن فليأت أبي بن كعب، ومن أراد أن يسأل عن الفرائض فليأت زيد بن ثابت، ومن أراد أن يسأل عن الفقه فليأت معاذ بن جبل، ومن أراد أن يسأل عن المال فليأتني؛  فإن الله جعلني له واليا وقاسما
الفقيه والمتفقه (2/ 132) دار ابن الجوزي السعودية
وأما الأحكام الشرعية , فضربان: أحدهما: يعلم ضرورة من دين الرسول صلى الله عليه وسلم كالصلوات الخمس , والزكوات , وصوم شهر رمضان , والحج , وتحريم الزنا وشرب الخمر , وما أشبه ذلك، فهذا لا يجوز التقليد فيه , لأن الناس كلهم يشتركون في إدراكه , والعلم به , فلا معنى للتقليد فيه وضرب آخر: لا يعلم إلا بالنظر والاستدلال: كفروع العبادات , والمعاملات , والفروج , والمناكحات , وغير ذلك من الأحكام , فهذا يسوغ فيه التقليد , بدليل قول الله تعالى: {فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون} [النحل: 43] ولأنا لو منعنا التقليد في هذه المسائل التي هي من فروع الدين لاحتاج كل أحد أن يتعلم ذلك , وفي إيجاب ذلك قطع عن المعايش , وهلاك الحرث والماشية فوجب أن يسقط
كذافي تقلیدکی شرعی حیثیت( ص:۱۳)
 فتاوی محمودیہ (۲/۶۰۱)جامعہ فاروقیہ کراچی
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس