بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کسی سے مقالہ لکھوا کر” ایم۔ فل” کی ڈگری حاصل کرنا اور اس پر ملازمت حاصل کرنا

سوال

میں کراچی یونیورسٹی میں ایم فل کر رہا ہوں،اپنی مصروفیات کی وجہ سے میں اپنا تھیسز خود نہیں لکھ سکتا ۔اگر میں کسی کو پیسے دے کر یا کسی ویب سائٹ کے ذریعے لکھوا لوں تو کیا یہ جائز ہوگا ؟پھر اس ڈگری کے بیس پر میری جاب لگ جائے تو اس جاب کی آمدنی میرے لیے حلال ہوگی ؟براہ کرم جواب عنایت فرمائیے۔

جواب

ایم فل کی ڈگری

واضح رہے کہ کوئی بھی ڈگری حاصل کرنے کے لیے تھیسز (مقالہ )دوسروں سے لکھوانا جائز نہیں ہے،کیونکہ اس میں جھوٹ اور جعل سازی ہے۔ اور مذکورہ طریقہ سے ڈگری حاصل کرنا جعلی ڈگری کے حکم میں ہے ۔ لہٰذا اس کی بنیاد پر ملنے والی ملازمت بھی نہیں کرنی چاہیئے ،خصوصاً جب کہ وہ اس کام کا اہل اور قابل بھی نہ ہو ۔( ماخذہ:تبویب دارالافتاء الاحسان ،جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ 20/82)
سنن أبي داود (3/ 272)
 فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من غش
مرقاة المفاتيح (5/ 1935)
(من غش) أي خان وهو ضد النصح (فليس مني) أي ليس هو على سنتي وطريقتي
مرقاة المفاتيح (5/ 1968)
 لأن فيه نوع غش للمسلمين
الدر المختار (5/ 47)
لأن الغش حرام
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس