بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قرب قیامت میں دنیا کا واپس بکریوں کے پالنے کی طرف آنے سے متعلق حدیث کی تحقیق

سوال

یہ حدیث کہاں تک درست ہے کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ قرب قیامت ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگ حرم کے قریب ٹھہریں گے اورذریعہ معاش بکریوں کا پالنا ہو گا، اس وقت تیز رفتار دنیا اور ترقی جو کچھ ٹرانسپورٹ جتنی چیزیں ہیں یہ ختم ہو جائیں گی اور لوگ دوبارہ اس طرف آئیں گے کہ ذریعہ معاش بکریوں کا پالنا ہوگا بکریاں چرائیں گے پالیں گے دودھ پئیں گے۔

جواب

تلاش بسیار کے باوجود استفتاء میں مذکور الفاظ ہمیں کسی حدیث میں نہیں مل سکے، البتہ کچھ احادیث میں اس طرح کا مفہوم بیان ہوا ہے کہ عنقریب مسلمانوں کا عمدہ مال بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور برساتی وادیوں میں اپنے دین کو بچانے کے لیے چلے جائیں گے اسی طرح حرم کے بارے میں آیا ہے کہ دجال کا فتنہ پوری دنیا میں پھیل جائے گا سوائے مکہ و مدینہ کے یہ دو مقامات امن والے ہوں گے، لہذا سوال میں مذکور باتوں کو حدیث کے طور پر نقل کرنے سے اجتناب کیا جائے۔
سنن ابن ماجه (2/ 773) دار إحياء الكتب العربية
عن أم هانئ، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال لها: «اتخذي غنما فإن فيها بركة
سنن النسائي (8/ 123)
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يوشك أن يكون خير مال مسلم غنم يتبع بها شعف الجبال، ومواقع القطر، يفر بدينه من الفتن
صحيح البخاري (3/ 22) دار طوق النجاة
عن أنس بن مالك رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «ليس من بلد إلا سيطؤه الدجال، إلا مكة، والمدينة، ليس له من نقابها نقب، إلا عليه الملائكة صافين يحرسونها، ثم ترجف المدينة بأهلها ثلاث رجفات، فيخرج الله كل كافر ومنافق
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس