میں نے نکاح کے دو سال بعد اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں کہا “تم میری طرف سے فارغ ہو” اس کے بارے میں، میں نے کسی سے مسئلہ دریافت نہیں کیا اور تین سال بعد سعودیہ سے آکر اپنی بیوی کے ساتھ رہنے لگا۔
پہلی مرتبہ جب “تم میری طرف سے فارغ ہو” کہا تھا اس وقت میری نیت طلاق ہی تھی،دوسری مرتبہ تقریباً چھ سال پہلے میں نے اپنی بیوی کو اپنی پھوپھی کے ساتھ جھگڑے کے دوران کہا ” تمہیں میری طرف سے طلاق ہے” تیسری مرتبہ تقریباً دس دن پہلے میری بیوی اور پھوپھی کی پھر لڑائی ہوئی اس دوران میں نے پھر یہ الفاظ کہے ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔
مذکورہ صورت کے مطابق جب شوہر نے طلاق کی نیت سے اپنی بیوی کو کہا “تم میری طرف سے فارغ ہو” تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہو گئی تھی اور ان دنوں کا نکاح ختم ہو گیا تھا، اس کے بعد دونوں کا اکٹھے رہنا حرام اور گناہ کا باعث تھا، نیز پہلی دفعہ فارغ کا لفظ کہنے کے بعد اگر عدت گزر گئی جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے اور بعد میں دوسری اور تیسری طلاق دی تو مزید طلاق واقع نہیں ہوئی لہذا اب ان دونوں مرد و عورت پر خوب خوب توبہ و استغفار لازم ہے اور آئندہ نکاح کے رشتے میں منسلک ہونے کے لیے باہمی رضامندی سے نئے حق مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں نیا عقدِ نکاح کرنا ضروری ہے، البتہ آئندہ اب شوہر کے پاس مزید صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔
الفتاوى الهندية (1/ 374)دارالفکر
(وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية
بدائع الصنائع (4/ 54) دار الكتب العلمية
إذا قال لزوجته: أنت حرة ونوى به الطلاق؛ طلقت كذا هذا
الدر المختار (3/ 296)دارالفکر
(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا
وفي الرد: (قوله: وهي حالة مذاكرة الطلاق) أشار به إلى ما في النهر من أن دلالة الحال تعم دلالة المقال قال: وعلى هذا فتفسر المذاكرة بسؤال الطلاق أو تقديم الإيقاع، كما في اعتدي ثلاثاً وقال قبله المذاكرة أن تسأله هي أو أجنبي الطلاق
الهداية (5/ 474) دار الكتب العلمية
وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث، فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها؛ لأن حل المحلية باق؛ لأن زواله متعلق بالطلقة الثالثة، فينعدم قبلها
الدر المختار (3/ 306)دارالفکر
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح